نئی دہلی: بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیرِ اعظم نتن یاہو کے درمیان ٹیلی فون پر اہم گفتگو ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات، علاقائی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس بات چیت کی جانکاری خود وزیرِ اعظم مودی نے سوشل میڈیا کے ذریعے دی۔ وزیرِ اعظم مودی نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو اور اسرائیل کے عوام کو نئے سال کی مبارک باد دی۔ دونوں لیڈروں نے آنے والے برس میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو کی۔ اس کے ساتھ ہی مغربی ایشیا میں بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر بھی اپنے خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیرِ اعظم مودی نے لکھا کہ ”اپنے دوست وزیرِ اعظم نتن یاہو سے بات کر کے خوشی ہوئی اور انہیں اور اسرائیل کے عوام کو نئے سال کی مبارک باد دی۔ ہم نے آنے والے سال میں بھارت–اسرائیل اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے طریقوں پر گفتگو کی۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے علاقائی حالات پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا اور دہشت گردی کے خلاف اور زیادہ مضبوطی سے لڑنے کے عزم کا اعادہ کیا“۔
قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان 10 دسمبر 2025 کو ٹیلی فونک گفتگو ہوئی تھی۔ اس موقع پر اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو نے وزیرِ اعظم مودی سے رابطہ کیا تھا اور دونوں لیڈروں نے بھارت–اسرائیل اسٹریٹجک شراکت داری میں ہونے والی مسلسل پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ دونوں لیڈروں نے اس بات پر زور دیا کہ باہمی مفادات کے لیے ان تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی۔ گفتگو کے دوران دہشت گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کی کسی بھی شکل یا اظہار کے تئیں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ بھارت اور اسرائیل دونوں نے اس معاملے میں زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر قائم رہنے کے عزم کو دہرایا۔
ٹیلی فونک بات چیت میں مغربی ایشیا کی مجموعی صورتحال بھی زیرِ بحث رہی۔ وزیرِ اعظم مودی نے خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کے قیام کے لیے بھارت کی حمایت کا اعادہ کیا، جس میں غزہ امن منصوبے کے جلد نفاذ پر بھی زور دیا گیا۔ دونوں لیڈروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بدلتے عالمی اور علاقائی حالات کے پیشِ نظر مسلسل رابطے میں رہنا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو کا دسمبر 2025 میں بھارت کا مجوزہ دورہ کسی وجوہات کے باعث منسوخ کر دیا گیا تھا، جس پر کافی بحث بھی ہوئی تھی۔ یہ تیسری مرتبہ تھا جب ان کا بھارت دورہ مؤخر ہوا۔ نومبر 2025 میں دہلی کے لال قلعہ کے قریب ہونے والے دھماکے کے بعد اس دورے کو سلامتی کے نقطۂ نظر سے بھی جوڑا جا رہا تھا۔ موجودہ گفتگو کو دونوں ممالک کے مضبوط اور مسلسل بڑھتے ہوئے تعلقات کی ایک اور کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…