وزیراعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال کے ضلع بیربھومی میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ترنمول کانگریس حکومت پر سخت تنقید کی اور اسے ’’جنگل راج‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایم سی ’’ماں، ماٹی اور مانُش‘‘ کا نعرہ تو دیتی ہے، لیکن حقیقت میں ریاست کی صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ وزیراعظم نے کہا ’’آج بنگال میں ماں رو رہی ہے، ماٹی پر دراندازوں کا قبضہ ہو چکا ہے اور انسان خوفزدہ اور سہمے ہوئے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق ریاست میں ایسا ماحول پیدا ہو چکا ہے جہاں عام شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے اپنے خطاب میں ٹیگور کے نظریے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھا تھا جہاں لوگ خوف سے آزاد ہوں، مگر موجودہ حکومت نے اس کے برعکس حالات پیدا کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایم سی کے دور میں قانون کی حکمرانی کمزور ہوئی ہے اور ریاست میں بدامنی اور خوف کا ماحول بڑھا ہے، جو ٹیگور کے خواب کے خلاف ہے۔
دراندازی اور جعلی دستاویزات کا الزام
وزیراعظم نے دراندازی کے مسئلے کو اپنی تقریر کا اہم حصہ بنایا اور الزام لگایا کہ ریاست میں دراندازوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایم سی کا ’’سنڈیکیٹ‘‘ ان دراندازوں کو جعلی سرکاری دستاویزات فراہم کرنے میں مدد کر رہا ہے، جس کے باعث وہ ریاست میں بس رہے ہیں۔ مودی نے وعدہ کیا کہ اگر مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو دراندازی میں مدد کرنے والوں کے خلاف خصوصی تحقیقات کی جائیں گی اور انہیں سخت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چاہے کوئی کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ وزیراعظم نے 2022 کے بوگتوئی واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ’’انسانیت پر داغ‘‘ قرار دیا۔ اس واقعے میں آٹھ افراد کو زندہ جلا دیا گیا تھا، جس پر ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ صرف ایک جرم نہیں بلکہ ریاست میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور جرائم کی علامت ہے۔ ان کے مطابق، اگر اسے ’’جنگل راج‘‘ نہیں کہا جائے تو پھر کیا کہا جائے گا۔
سیاسی پس منظر اور انتخابات
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات قریب ہیں۔ 294 رکنی اسمبلی کے لیے ووٹنگ 23 اور 29 اپریل کو دو مرحلوں میں ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ٹی ایم سی نے بھاری اکثریت حاصل کرتے ہوئے 213 نشستیں جیتی تھیں، جبکہ بی جے پی نے 77 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ کانگریس اور لیفٹ فرنٹ کو کوئی کامیابی نہیں ملی تھی۔ وزیراعظم مودی کی یہ تقریر واضح طور پر انتخابی مہم کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے قانون و انتظام، دراندازی اور عوامی سلامتی جیسے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے ٹی ایم سی حکومت کو نشانہ بنایا۔ آنے والے انتخابات میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عوام ان الزامات اور وعدوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور ریاست کی سیاسی سمت کیا رخ اختیار کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
جسٹس دتا نے کہا کہ اگرچہ دونوں ججوں کا نتیجہ مختلف ہے، لیکن ان کا…
سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…
قاضی توقیر سے گفتگو کے دوران گلّو نے اپنی زندگی کے اس مشکل دور کو…
۔شعیب جمائی نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے…
بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…
وزیر اعظم نے کہا کہ اس اسکیم نے علاج کے اخراجات میں ریکارڈ بچت کو…