نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے بدھ کو بھارت اور برطانیہ کے درمیان جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے (Comprehensive Economic and Trade Agreement-CETA) اور سماجی تحفظ کے معاہدے (Agreement on Social Security) کے باضابطہ نفاذ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کی شراکت داری میں ایک ’’اہم اور تاریخی لمحہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں معاہدے اعلیٰ سطحی سفارتی عزائم کو عوام کے لیے حقیقی معاشی مواقع میں تبدیل کریں گے اور بھارت کے کسانوں، کاروباری افراد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعت کاروں (ایم ایس ایم ایز) اور ہنرمند افرادی قوت کے لیے نئی راہیں کھولیں گے۔
اقتصادی روابط مزید مضبوط ہوں گے: وزیراعظم
وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ سی ای ٹی اے اور سماجی تحفظ کا معاہدہ بھارت اور برطانیہ کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنائے گا۔ انہوں نے کہا ’’یہ بھارت-برطانیہ شراکت داری کے لیے ایک اہم لمحہ ہے۔ یہ معاہدے ہماری مشترکہ سوچ کو عوام کے لیے ٹھوس مواقع میں تبدیل کریں گے۔ سی ای ٹی اے ہمارے کسانوں، کاروباری افراد اور ایم ایس ایم ایز کو نئی رفتار دے گا، جبکہ کئی اہم شعبوں کو برطانوی منڈی تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔‘‘ وزیراعظم نے مزید کہا کہ اس معاہدے سے ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ خدمات، اختراعات اور ہنرمند بھارتی افرادی قوت کی نقل و حرکت میں بھی تعاون بڑھے گا۔
بھارتی پیشہ ور افراد کو سماجی تحفظ میں بڑی راحت
وزیراعظم مودی نے کہا کہ سماجی تحفظ کا معاہدہ برطانیہ میں عارضی طور پر کام کرنے والے بھارتی پیشہ ور افراد کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا اور بھارتی کمپنیوں کی عالمی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدے دونوں جمہوری ممالک کے درمیان اعتماد کی علامت ہیں اور تجارت، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور اختراع پر مبنی مستقبل کی شراکت داری کو مزید مضبوط کریں گے۔ مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے بھی معاہدے کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت بھارت کی تقریباً 99 فیصد برآمدات کو برطانوی منڈی میں زیرو ڈیوٹی رسائی حاصل ہوگی، جو تقریباً مجموعی تجارتی حجم کے سو فیصد حصے کا احاطہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ٹیکسٹائل، ملبوسات، چمڑا، جواہرات و زیورات، انجینئرنگ مصنوعات، کیمیکل، الیکٹرانکس، سمندری مصنوعات، فرنیچر اور کھیلوں کے سامان سمیت کئی شعبوں کے لیے بے مثال مواقع فراہم کرے گا۔
زرعی شعبے اور غذائی مصنوعات کو بھی فائدہ
پیوش گوئل کے مطابق معاہدے کے تحت زرعی شعبے کی تقریباً تمام مصنوعات کو برطانیہ میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوگی، البتہ مرغی، سور کے گوشت، انڈوں، چاول اور چینی کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اسی طرح تیار شدہ غذائی مصنوعات کی 97.1 فیصد ٹیرف لائنز کو بھی ڈیوٹی فری رسائی دی گئی ہے، جس سے بھارتی برآمد کنندگان کو برطانیہ کی 90 ارب امریکی ڈالر سے زائد مالیت کی زرعی درآمدی منڈی میں بہتر مواقع میسر آئیں گے۔
75 ہزار سے زائد بھارتی پیشہ ور افراد ہوں گے مستفید
سماجی تحفظ کے معاہدے کے تحت برطانیہ میں عارضی طور پر تعینات بھارتی ملازمین اور ان کے آجر پانچ برس تک برطانیہ کے نیشنل انشورنس کنٹری بیوشن کی ادائیگی سے مستثنیٰ رہیں گے۔ حکومت کے مطابق اس سہولت سے آئی ٹی، مالیاتی خدمات، صحت، تعلیم، ٹیلی کمیونی کیشن اور کنسلٹنسی سمیت مختلف شعبوں کے 75 ہزار سے زائد بھارتی پیشہ ور افراد اور تقریباً 900 کمپنیاں فائدہ اٹھائیں گی۔ اس کے علاوہ معاہدے کے تحت ہر سال 1,800 بھارتی شیف، یوگا انسٹرکٹرز اور کلاسیکی موسیقاروں کے لیے بھی خصوصی نقل و حرکت کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے، جس سے 137 ذیلی شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ پیوش گوئل نے برطانیہ کے وزیر تجارت پیٹر کائل اور دونوں ممالک کی مذاکراتی ٹیموں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ تجارت، سرمایہ کاری، اختراع اور مشترکہ خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا اور آنے والی نسلوں کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مہاراشٹر کے ہنگولی شہر میں پیر کی رات ایک دردناک حادثہ پیش آیا۔ شہر کے…
تعلیمی سیشن 27-2026 سے RBSE کی 10ویں جماعت کے طلبہ کو سال میں دو مرتبہ…
موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…
لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…
گومتی میں بڑھتی آبی سطح اور حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ یوگی…
راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ…