نئی دہلی: ہندوستان میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور قیادت کے فروغ کو لے کر ایک اہم قدم کے طور پر منعقد ہونے والے ’’ناری شکتی وندن سمیلن‘‘ سے قبل وزیر اعظم مودی نے واضح کیا کہ ملک کی ترقی اور ’’وکست بھارت‘‘ کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے خواتین کی بھرپور شرکت ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پروگرام نہ صرف مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا بلکہ پالیسی سازی اور قیادت میں ان کی شمولیت کو مزید مضبوط کرنے کی سمت میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب ملک تیزی سے ترقی کے راستے پر گامزن ہے اور اس سفر میں خواتین کا کردار مزید اہم ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ’’ناری شکتی وندن سمیلن‘‘ مختلف شعبوں جیسے تعلیم، سائنس، کھیل، کاروبار، میڈیا اور سماجی خدمات سے وابستہ خواتین کو ایک ساتھ لا کر ایک جامع مکالمے کو فروغ دے گا، جس کے ذریعے خواتین کی صلاحیتوں کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کیا جا سکے گا۔
خواتین کی قیادت کو فروغ دینے پر زور
وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خواتین کو مساوی مواقع فراہم نہ کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ملک میں خواتین کی شرکت میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں فیصلہ سازی کے ہر سطح پر مضبوط نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے اس پہلو پر بھی زور دیا کہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کی زیادہ شرکت نہ صرف جمہوریت کو مضبوط کرے گی بلکہ پالیسی سازی میں ایک متوازن اور جامع نقطہ نظر بھی فراہم کرے گی۔ یہ کانفرنس اسی مقصد کے تحت منعقد کی جا رہی ہے کہ خواتین کی قیادت کو فروغ دیا جائے اور انہیں قومی ترقی کے عمل میں مرکزی حیثیت دی جائے۔ اس موقع پر مختلف شعبوں کی نمایاں خواتین شخصیات اور کامیاب خواتین شرکت کریں گی، جو اپنے تجربات اور خیالات کے ذریعے نئی نسل کو متاثر کریں گی۔
ناری شکتی وندن ایکٹ اور آئندہ حکمت عملی
وزیراعظم کے دفتر کے مطابق، ستمبر 2023 میں پارلیمنٹ نے ’’ناری شکتی وندن ایکٹ‘‘ کو منظوری دی تھی، جس کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں محفوظ کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس قانون کو خواتین کی سیاسی شمولیت کے حوالے سے ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اب جبکہ اس قانون کے عملی نفاذ کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے، 16 اپریل سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے، جہاں اس سے متعلق مزید اقدامات اور عمل درآمد کے پہلوؤں پر غور کیا جائے گا۔ اس تناظر میں ’’ناری شکتی وندن سمیلن’’ کو ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں اس قانون کے اثرات اور امکانات پر بھی تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔
’’وکست بھارت 2047‘‘ میں خواتین کا کردار
یہ کانفرنس ’’وکست بھارت 2047‘‘ کے وژن کے تحت خواتین کے کردار کو اجاگر کرنے پر بھی مرکوز ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ آئندہ دہائیوں میں بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے خواتین کی قیادت پر مبنی ترقی (Women-led Development) ایک کلیدی عنصر ثابت ہوگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی نہ صرف جمہوری اقدار کو مضبوط کرے گی بلکہ سماجی اور اقتصادی ترقی کو بھی نئی سمت دے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی، تاکہ وہ ملک کی ترقی میں فعال کردار ادا کر سکیں۔ اس طرح ’’ناری شکتی وندن سمیلن‘‘ نہ صرف خواتین کے حقوق اور مواقع پر روشنی ڈالے گا بلکہ ایک ایسے مستقبل کی بنیاد بھی رکھے گا جہاں خواتین ترقی کے ہر مرحلے میں قائدانہ کردار ادا کریں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اسمت مچھار کی بہادری کے اعتراف میں گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے اعلان…
نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…
کاک پٹ میں پیش آنے والی جھڑپ کے دوران شریک پائلٹ نے پائلٹ پر چاقو…
پروفیسر سلیم انجینئر نے مزید کہا کہ آئین ہند کا آرٹیکل 21 زندگی اور شخصی…
چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر میں ہتھیار چھوڑ کر مرکزی دھارے میں واپس آنے والے 210…
سپریم کورٹ نے 2008 کے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے میں سزائے…