قومی

PM Modi Meets Myanmar President: میانمار میں امن اور بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بھارت تیار: وزیر اعظم مودی

نئی دہلی: بھارت اور میانمار نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، رابطہ کاری، ترقیاتی شراکت داری، صلاحیت سازی، سکیورٹی تعاون اور سرحدی انتظام جیسے اہم شعبوں میں باہمی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ اتفاق رائے پیر کے روز نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات اور تفصیلی مذاکرات کے دوران سامنے آیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور میانمار کے صدر یو من آنگ ہلینگ کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر دونوں لیڈروں نے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت میانمار میں امن و استحکام کے قیام اور جامع سیاسی مکالمے کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت میانمار کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کرنے کا خواہاں ہے، خصوصاً وفاقی طرز حکمرانی اور اقتصادی ترقی کے شعبوں میں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تاریخی، ثقافتی اور عوامی روابط موجود ہیں جنہیں مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وزیر اعظم مودی اور صدر یو من آنگ ہلینگ کے درمیان ہونے والی گفتگو انتہائی جامع اور تعمیری رہی۔ ان کے مطابق دونوں لیڈروں نے امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے دوطرفہ شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت میانمار کے لیے ایک قابل اعتماد ہمسایہ ملک اور مشکل اوقات میں پہلا مددگار ثابت ہوا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے اس موقع پر بھارت کی ’’نیبرہڈ فرسٹ‘‘، ’’ایکٹ ایسٹ‘‘ اور ’’مہاساگر‘‘ پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان پالیسیوں کے تحت بھارت میانمار کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

میانمار کے صدر یو من آنگ ہلینگ اپنے دورۂ بھارت کے دوران صدر دروپدی مرمو سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ ’’دی لائٹ اینڈ دی لوٹس: ریلکس آف دی اویکنڈ ون‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ثقافتی نمائش کا دورہ بھی کریں گے۔ یہ ان کا بھارت کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جس میں وزراء، اعلیٰ حکام اور کاروباری نمائندوں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی شامل ہے۔ وفد ممبئی میں تجارتی سرگرمیوں اور مختلف مقامات کا بھی دورہ کرے گا۔ دورے سے قبل قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی میانمار کے صدر سے ملاقات کر چکے ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان کثیر جہتی تعلقات کو نئی وسعت دینے اور باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Border face-off: اروناچل پردیش میں آمنے سامنے کی صورت حال پر چین کا ردعمل، کہا-’’ہم معاہدے پر پوری طرح کررہے ہیں عمل‘‘

جمعہ کو ہندوستانی وزارت خارجہ نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی کے ساتھ…

37 minutes ago

Gold Price Fall Down: سونے کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ! دکانوں کے باہر لمبی قطاریں، چین میں سونے کی خریداری کے لیے مچی ہوڑ

عالمی بازار میں سونے کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ کے بعد شینزن کے شوبے گولڈ…

48 minutes ago

HRF calls for release of Mahrang Baloch: انسانی حقوق فاؤنڈیشن کا ماہ رنگ بلوچ کی رہائی کا مطالبہ، جیل میں مقدمے کی سماعت اور صحت پر تشویش

فاؤنڈیشن نے دہشت گردی کے الزامات کو ’سیاسی محرکات پر مبنی‘ قرار دیا، بلوچستان میں…

1 hour ago