وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی تقریر کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطاب میں پارلیمنٹ کی روایات کی اہمیت اور ملک کی ترقی کے لیے اجتماعی کوششوں کا ذکر کیا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا، “وزیر داخلہ امت شاہ کی شاندار تقریر۔ ان کی تقریر حقائق سے بھرپور ہے اور اس میں پارلیمانی روایات کی اہمیت کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔”
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے بدھ کے روز لوک سبھا میں اسپیکر اوم برلا کے خلاف پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک پر ہونے والی بحث کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے، تقریباً چار دہائیوں بعد لوک سبھا کے اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی ہے۔ انہوں نے اسے پارلیمانی سیاست اور ایوان کے لیے افسوسناک قرار دیا۔امت شاہ نے کہا کہ لوک سبھا کا اسپیکر کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ایوان کا ہوتا ہے اور وہ تمام اراکین کے حقوق کا محافظ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانا کوئی جرات مندانہ قدم نہیں ہے۔
جمہوریت کی مضبوطی پر امت شاہ کا بیان
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر تقریباً 13 گھنٹے تک حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بحث ہوئی، جس میں 42 سے زیادہ اراکینِ پارلیمنٹ نے حصہ لیا۔ شاہ نے کہا کہ اسپیکر کے فیصلے کو حتمی ماننے کے بجائے اپوزیشن نے ان کی نیت اور وفاداری پر سوال اٹھایا ہے۔ امت شاہ نے مزید کہا کہ لوک سبھا ہندوستانی جمہوریت کی سب سے بڑی پنچایت ہے اور نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں ہماری جمہوریت کی ایک ساکھ قائم ہے، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق جب اس پنچایت کے سربراہ کی نیت پر سوال اٹھایا جاتا ہے تو اس سے صرف ملک ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ہندوستان کی جمہوری عمل پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی ماضی میں اپوزیشن میں رہے ہیں اور اس دوران تین بار اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی، لیکن ہماری پارٹی اور اتحاد نے کبھی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش نہیں کی۔ امت شاہ کے مطابق بی جے پی نے ہمیشہ ایک تعمیری اپوزیشن کے طور پر کام کیا ہے، اسپیکر کے وقار کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے اور ایوان میں اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ ضرور کیا ہے، مگر کبھی بھی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش نہیں کی۔
اپوزیشن کے الزامات پر امت شاہ کا جواب
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 16ویں لوک سبھا میں 331 نشستیں ہوئیں، 17ویں لوک سبھا میں 274 نشستیں منعقد ہوئیں اور موجودہ لوک سبھا میں سال 2025 تک 103 نشستیں ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2025 کا بجٹ اجلاس 118 فیصد پیداواری صلاحیت کے ساتھ مکمل ہوا۔امت شاہ نے مزید کہا کہ 16ویں لوک سبھا کی مجموعی کارکردگی 91 فیصد رہی، 17ویں لوک سبھا کی پیداواری صلاحیت بھی 91 فیصد رہی اور 18ویں لوک سبھا کی کارکردگی بھی 91 فیصد کے قریب رہی ہے۔ ان کے مطابق ان تمام ادوار میں سب سے زیادہ مؤثر کارکردگی موجودہ اسپیکر اوم برلا کے دورِ کار میں دیکھنے کو ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر نے ایوان میں زیرو آور کے دورانیے کو بڑھا کر تقریباً 5 گھنٹے تک پہنچا دیا ہے، جس سے اراکینِ پارلیمنٹ کو عوامی مسائل اٹھانے کے لیے زیادہ وقت اور بہتر موقع ملا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…
بھارت اور برازیل کے درمیان ہونے والے فٹبال میچ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے…
وزیراعظم نریندر مودی نے پی ایم او کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا،…