قومی

PM Modi Pradhanmantri dhan dhanya yojna dalhan atmanirbharata mission: وزیراعظم مودی 11 اکتوبر کو’پردھان منتری دھن-دھانیہ کرشی یوجنا‘ اور ’دلہن آتم‌نربھرتا مشن‘ کا  کریں گےآغاز

وزیراعظم نریندر مودی 11 اکتوبر 2025 کو پُوسا، دہلی میں منعقد ہونے والے ایک اہم پروگرام میں ملک کے دو بڑے زرعی منصوبوں — ’پردھان منتری دھن-دھانیہ کرشی یوجنا‘ اور ’دلہن آتم‌نربھرتا مشن‘ — کا آغاز کریں گے۔ اس بات کی اطلاع مرکزی وزیر برائے زراعت و کسانوں کے بہبود اور دیہی ترقی، شیو راج سنگھ چوہان نے جمعرات کو دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں دی۔

شیوراج سنگھ چوہان نے بتایا کہ وزیراعظم اس موقع پر ’کسان آواسنرچنا کوشٗ (زرعی بنیادی ڈھانچہ فنڈ، مویشی پروری، ماہی گیری اور فوڈ پروسیسنگ سیکٹر کے متعدد منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد بھی رکھیں گے۔

مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ پروگرام سے پہلے وزیراعظم نریندر مودی پُوسا کے وسیع میدان میں مختلف کسانوں سے براہ راست گفتگو کریں گے، جن میں قدرتی کاشتکاری، دلہن مشن اور دھن-دھانیہ یوجنا سے وابستہ کاشتکار شامل ہوں گے۔ اس بڑے پروگرام سے پورے ملک کے 731 کرشی وگیان کیندر، ICAR کے 113 ادارے، منڈیاں، کسان سمرتھی کیندر اور پنچایتیں شامل ہونگی۔ ہر ضلع اور بلاک سطح پر بھی پروگرام منعقد ہوں گے، اور ہر ریاست میں ایک اہم مقام پر مرکزی پروگرام ہوگا۔

اس طرح ملک بھر کے تقریباً 1 کروڑ کسان کسی نہ کسی صورت میں اس پروگرام سے براہ راست جُڑ کر وزیراعظم سے تحریک حاصل کریں گے، جبکہ تقریباً 1.25 کروڑ کسان بھائی بہن آن لائن اس پروگرام میں رہیں گے۔

خود کفیل بنانے کے مقصد سے نئے منصوبوں کا آغاز

مرکزی وزیر زراعت شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی 11 اکتوبر کو دو اہم اسکیموں — ’پردھان منتری دھن-دھانیہ کرشی یوجنا‘اور ’دلہن آتم‌نربھرتا مشن‘ — کا آغاز کریں گے، جو ملک میں زرعی خود کفالت اور پیداوار بڑھانے کے مقصد سے بہت اہم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کی قیادت میں حکومت زراعت اور کسانوں کی فلاح  و بہبود کے بڑے مقاصد جیسے ملک کی غذائی سلامتی کو یقینی بنانا، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا اور غذائیت سے بھرپور اناج کی دستیابی پر پابندی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ حکومت اناج کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے مستعدی سے کام کر رہی ہے۔

شیو راج سنگھ نے کہا کہ 2014 سے اب تک اناج کی پیداوار میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گیہوں، چاول، مکئی، مونگ پھلی اور سویابین جیسی فصلوں کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ آج بھارت گیہوں اور چاول کے معاملے میں مکمل طور پر خود کفیل ہو چکا ہے، اور 4.39 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے زرعی مصنوعات برآمد کی جا چکی ہیں۔ تاہم دالوں کے معاملے میں ابھی مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔

بہترین قسم کی دالوں کی فصلیں اور پیداوار اچھی پیداوار

انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں دالوں کی سالانہ پیداوار 242 لاکھ ٹن ہے، جسے 350 لاکھ ٹن تک بڑھانا ہے۔ فی ہیکٹر اوسط پیداوار 880 کلوگرام ہے، جس میں اضافہ کرکے 1130 کلوگرام فی ہیکٹر تک لے جانا ہے۔ اس کے لیے ایسی اقسام کے بیج تیار کیے جائیں گے جن کی پیداوار زیادہ ہو اور جو بیماریوں اور کیڑوں سے محفوظ ہوں۔ چونکہ دالوں کی فصلیں سردی زیادہ برداشت نہیں کر پاتیں، جیسے کہ ارہر کو سردی اور کیڑوں سے نقصان پہنچتا ہے، اس لیے حکومت کا مقصد ایسی اقسام تیار کرنا ہے جو زیادہ پیداوار دینے والی، کیڑوں سے محفوظ اور موسم کے مطابق ہوں، اور انہیں وقت پر کسانوں تک پہنچایا جائے گا۔

وزیر زراعت نے کہا کہ ہندوستان دنیا میں دالوں کا سب سے بڑا پیداوار کرنے والا اور استعمال کرنے والا ملک ہے، اس کے باوجود سب سے زیادہ دالوں کی درآمد بھی بھارت ہی کرتا ہے۔ اسی لیے دالوں میں خود کفالت حاصل کرنے کے لیے’دلہن مشن‘ کا آغازکیا جا  رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے لیے ایک مکمل تحقیق و ترقی کی حکمت عملی بنائی گئی ہے، جس میں زیادہ پیداوار دینے والے، کیڑوں سے محفوظ اور موسم کے مطابق دالوں کی نئی اقسام تیار کی جائیں گی۔ ان بیجوں کو کسانوں تک ’منی کٹس‘ کی صورت میں پہنچایا جائے گا، 126 لاکھ کوئنٹل مصدقہ بیج فراہم کیے جائیں گے، اور 88 لاکھ مفت بیج کٹس تقسیم کی جائیں گی۔

اہم اقدامات سے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ

شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ ریاستوں کی شراکت داری کے ساتھ پورا زرعی نظام ایک قوم-ایک زراعت-ایک ٹیم کے نظریے پر کام کرے گا۔ انہوں نے ‘پردھان منتری دھن-دھانیا کرشی یوجنا’ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ہر علاقے کی زرعی پیداوار یکساں نہیں ہے۔ مختلف فصلوں کی پیداوار الگ الگ علاقوں میں مختلف ہے۔ حتیٰ کہ ایک ریاست کے اندر بھی ضلع وار پیداوار مختلف ہے۔اسی لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کم پیداوار والے اضلاع کی شناخت کر کے وہاں پیداوار بڑھانے کے لیے خصوصی کوششیں کی جائیں گی۔ اگر ہم ان کمزور اضلاع کو بھی اوسط سطح پر لے آئیں تو ملک کی مجموعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو گا، ضروریات پوری ہوں گی اور ان اضلاع کے کسانوں کی آمدنی بھی بڑھے گی۔

کاشتکاری اور دیہی ترقی کی سہولیات کا افتتاح

فی الحال ایسے 100 اضلاع کا انتخاب کیا گیا ہے جن پر خاص توجہ دی جائے گی۔ ان اضلاع میں پیداوار بڑھانے کے لیے آبپاشی نظام کی بہتری، ذخیرہ کاری کی سہولیات، طویل و قلیل مدتی قرض، فصلوں میں تنوع جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی 10,000 نئی ملٹی پرپز پی اے سی ایس کے تحت ڈیری اور ماہی گیری سے متعلق ابتدائی کوآپریٹو سوسائٹیز قائم کی گئی ہیں اور 4275 دیہی علاقوں کے اے آئی ٹیکنیشنز کو تربیت دے کر سرٹیفائی کیا گیا ہے۔ یہ تمام اقدامات ہندوستان کو زرعی طور پر خود کفیل بنانے اور کسانوں کی معیشت کو مضبوط کرنے کی سمت میں ایک مضبوط قدم ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Asian Games 2026: ’فتح ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے!‘ اسکواش میں کانسی کا تمغہ جیتنے پر امت شاہ نے جوشنا اور ویلون کو دی مبارکباد

ایشین گیمز 2026 کے اسکواش مکسڈ ڈبلز مقابلے میں جوشنا چناپا اور ویلون سینتھل کمار…

7 hours ago

Home Minister Amit Shah: ایشین گیمز 2026، میراتھن میں ساون برنوال نے جیتا سلور، امت شاہ نے کہا – ’کامیابی کی راہ پر اسی طرح دوڑتے رہیں‘

آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹ ساون برنوَال نے مردوں کی میراتھن میں چاندی…

8 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026، بھارتی خواتین رائفل ٹیم نے جیتا سلور، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

50 میٹر رائفل 3 پوزیشن ٹیم مقابلے میں تلوتمہ سین، وِدرشا کے ونود اور آشی…

8 hours ago

Thackeray Brothers Rally Against EC: ایس آئی آر کے خلاف پھر ایک ہوئے راج اور ادھو ٹھاکرے، 4 اکتوبر کو نکالیں گے بڑا احتجاجی مارچ

مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف ایم این ایس اور شیوسینا (یو…

9 hours ago