نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو کہا کہ ملک کی ٹیلی میڈیسن پہل ’ای سنجیونی‘ کے ذریعے اب تک تقریباً 50 کروڑ ٹیلی کنسلٹیشن مکمل کی جا چکی ہیں۔ ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کی 139ویں قسط میں انہوں نے ڈیجیٹل صحت، جدید سائنسی تحقیق اور زمینی سطح پر زرعی ترقی کے میدان میں ہندوستان کی اہم کامیابیوں کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے آئی آئی ٹی مدراس میں انسانی دماغ کی تھری ڈی میپنگ کے لیے جاری تحقیق کو نمایاں قرار دیا۔ اس منصوبے میں ’پرم شکتی‘ سپر کمپیوٹر کی مدد سے انسانی دماغ کی اعلیٰ ریزولیوشن والی ڈیجیٹل تھری ڈی تصاویر تیار کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے میگھالیہ اور ناگالینڈ میں روایتی موٹے اناج کی کاشت کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے نوجوانوں اور مقامی برادریوں کی کوششوں کی بھی ستائش کی۔
ای سنجیونی سے 50 کروڑ ٹیلی کنسلٹیشن
صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’ای سنجیونی‘ پروگرام اس بات کی مثال ہے کہ ٹیکنالوجی کس طرح لوگوں کی زندگیوں کو بہتر اور روزمرہ کے کاموں کو آسان بنا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یہ دیکھ کر بہت اطمینان ہوتا ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے اب تک تقریباً 50 کروڑ ٹیلی کنسلٹیشن ہو چکی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی کی طاقت، ہمارے ڈاکٹروں کے خدمت کے جذبے اور شہریوں کے اعتماد کی بہترین مثال ہے۔ آج ای سنجیونی کا وسیع نیٹ ورک ملک کے دور دراز علاقوں تک بھی پہنچ چکا ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے بتایا کہ ملک میں 1.9 لاکھ سے زیادہ آیوشمان آروگیہ مندر لوگوں کو پنچایت کی سطح پر بنیادی طبی سہولتیں فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے معمول کے طبی معائنے کے لیے بھی لوگوں کا کافی وقت صرف ہو جاتا تھا، لیکن اب آیوشمان آروگیہ مندر مقامی پنچایتوں کے لیے صحت اور تندرستی کے مراکز کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ گاؤں کے لوگوں کا باقاعدگی سے صحت کا معائنہ ہونا اس تبدیلی کا ایک خوش آئند پہلو ہے، جبکہ ای سنجیونی اس پورے عمل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
آئی آئی ٹی مدراس میں انسانی دماغ کی تھری ڈی میپنگ
سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے آئی آئی ٹی مدراس کے ’سدھا گوپال کرشنن برین سینٹر‘ کی ستائش کی۔ یہاں انسانی دماغ کی امیجنگ کے لیے ایک منفرد ٹیکنالوجی پلیٹ فارم تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے دماغ کی اعلیٰ ریزولیوشن والی ڈیجیٹل تھری ڈی تصاویر بنائی جا رہی ہیں۔ مودی نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد 100 انسانی دماغوں کی تھری ڈی میپنگ کرنا اور ان کا تفصیلی مطالعہ کرنا ہے۔ ان کے مطابق، یہ اپنی نوعیت کا دنیا کا پہلا منصوبہ ہے اور اس تحقیق میں ’پرم شکتی‘ سپر کمپیوٹر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس برین سینٹر کی تعمیر اور تحقیق میں حکومت کے ساتھ صنعتوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ آئی آئی ٹی کے کئی سابق طلبہ اور تعلیمی و تحقیقی شعبوں سے وابستہ افراد بھی اس منصوبے میں تعاون کر رہے ہیں۔
میگھالیہ میں موٹے اناج سے بنی نئی مصنوعات
شمال مشرقی ہندوستان کی طرف توجہ دلاتے ہوئے وزیراعظم نے میگھالیہ کے مغربی جینتیا ہلز ضلع کے کھنڈولی گاؤں کی مثال پیش کی، جہاں دو دوستوں نے موٹے اناج کی کاشت میں کمی کے رجحان کو بدلنے کے لیے نئی مصنوعات تیار کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان نوجوانوں نے موٹے اناج سے کوکیز، کیک، مفنز اور بچوں کی غذا جیسی مصنوعات تیار کیں۔ ان مصنوعات میں قدر و قیمت بڑھانے کے اس طریقے سے ان کی فروخت میں اضافہ ہوا اور نتیجتاً موٹے اناج کی مانگ بھی بڑھنے لگی۔ وزیر اعظم نے مغربی گارو ہلز کے سادولپارا علاقے کے کسان چیکجنگ سنگما کی بھی ستائش کی، جنہوں نے موٹے اناج کی کاشت کے لیے جدید زرعی طریقے اپنائے۔ ان کوششوں سے ان کی آمدنی میں اضافہ ہوا اور مقامی برادری میں بھی اس فصل کے بارے میں بیداری پیدا ہوئی۔
ناگالینڈ میں دس سال بعد موٹے اناج کی کاشت دوبارہ شروع
وزیر اعظم مودی نے ناگالینڈ کے کوہیما ضلع کے کیزوما گاؤں میں موٹے اناج کی کاشت کی بحالی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس گاؤں میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک اس فصل کی کاشت بند رہی تھی، جس کی وجہ سے نئی نسل اس روایتی فصل سے ناواقف ہوتی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2024 میں مقامی برادری نے دوبارہ موٹے اناج کی کاشت شروع کی اور 2025 میں کیزوما میں پہلی مرتبہ موٹے اناج کا تہوار منایا گیا۔ وزیر اعظم کے مطابق، یہ مثال بتاتی ہے کہ اجتماعی کوششوں سے روایتی زرعی طریقوں کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔
فائبر آپٹکس کے بانی ڈاکٹر نریندر سنگھ کپانی کو خراج عقیدت
وزیر اعظم نے 31 اکتوبر کو پنجاب میں پیدا ہونے والے سائنس داں ڈاکٹر نریندر سنگھ کپاَنی کی صد سالہ یومِ پیدائش کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ڈاکٹر کپاَنی کو دنیا ’فائبر آپٹکس کا بانی‘ تسلیم کرتی ہے۔ مودی نے کہا کہ فائبر آپٹکس کے بغیر آج کے انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل مواصلات کے دور کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ڈاکٹر کپاَنی جیسے سائنس دانوں کے بارے میں پڑھیں، ان کی زندگی اور کام سے سبق حاصل کریں اور ان سے تحریک لیں۔ وزیراعظم نے یاد دلایا کہ 31 اکتوبر کو سردار ولبھ بھائی پٹیل کی یومِ پیدائش بھی منائی جاتی ہے، جسے ملک بھر میں قومی یومِ اتحاد کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سالانہ ’رن فار یونٹی‘ میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیں۔ مودی نے کہا کہ یہ دوڑ ملک کے اتحاد کو مضبوط بنانے اور قوم کے تئیں اپنے عزم کو تازہ کرنے کا موقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
’من کی بات‘ کی 139ویں قسط میں دریا کی بحالی کا ذکر، بارش کے پانی…
فلمی صنعت سے وابستہ ذرائع کے مطابق، انیش فلم میں ایک ایسے نوجوان کا کردار…
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جب مقامی مصنوعات کی بات ہوتی ہے تو کھادی…
پروگرام کے دوران وزیراعظم نے پنجاب کے مالوہ علاقے میں روایتی زرعی طریقوں کو دوبارہ…
یہ پروگرام ہریدوار کی تنظیم دویہ پریم سیوا مشن کے زیر اہتمام منعقد کیا جا…
پورے تنازع کی شروعات قانون ساز کونسل کے انتخابات کے دوران ہوئی۔ اننت سنگھ نے…