قومی

Garv se kaho ye swadeshi hai: وزیراعظم مودی کا ’’فخر سے کہو یہ سودیسی ہے‘‘ مہم پر زور، تاجروں کو جی ایس ٹی اصلاحات سے آگاہ کرنے کا منصوبہ

نئی دہلی — وزیراعظم نریندر مودی نے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ملاقات میں حالیہ جی ایس ٹی (اشیا و خدمات ٹیکس) اصلاحات کے فوائد سے تاجروں اور دکانداروں کو آگاہ کرنے کے منصوبے پر بات کی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ’’فخر سے کہو یہ سودیسی ہے‘‘ کے نعرے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر ایم پی کو اپنے حلقے میں 20 سے 30 تجارتی کانفرنسیں منعقد کرنی چاہئیں تاکہ مقامی تاجروں کو جی ایس ٹی اصلاحات سے متعلق مکمل معلومات دی جا سکیں۔

سودیشی مصنوعات کے فروغ پر زور

وزیراعظم مودی نے کہا کہ دیوالی اور نوراتری کے موقع پر ’’سودیشی میلے‘‘ منعقد کیے جائیں تاکہ بھارتی مصنوعات کو فروغ ملے اورعوام کو ان کی خریداری کی ترغیب دی جا سکے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ہر حلقے میں مقامی دستکاروں، چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں اور گھریلو مصنوعات کی نمائش کے لیے خصوصی پروگرام منعقد کیے جائیں۔

جی ایس ٹی اصلاحات کو عوام تک پہنچانا

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے جی ایس ٹی اصلاحات کو انقلابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے فوائد ہر شخص تک پہنچنے چاہئیں، خاص طور پر کاروباری طبقے تک۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ سے کہا کہ خواتین، طلبا، تاجروں اور مختلف طبقوں میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے اور مختلف مقامات پر پروگرام منعقد کیے جائیں۔

سودیشی کا جدید مفہوم

وزیراعطم مودی نے کہا کہ سودیشی کا تصور صرف چرخے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب یہ برہموس جیسے جدید منصوبوں تک پھیل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پیغام کو ہر شہری تک پہنچایا جائے تاکہ خود انحصاری (آتم نربھرتا) کے فوائد اجاگر ہوں۔ اس سے قبل 25 اگست کو بھی وزیراعظم مودی نے عوام سے اپیل کی تھی کہ نوراتری، وجے دشمی، دھن تیرس اور دیوالی جیسے تہواروں پر ’’میڈ اِن انڈیا‘‘ مصنوعات کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے وہ تحائف ہوں یا سجاوٹ کا سامان، سب کچھ مقامی طور پر تیار شدہ ہونا چاہیے تاکہ معیشت کو فروغ ملے۔

جی ایس ٹی شرحوں میں تبدیلی

56ویں جی ایس ٹی کونسل میٹنگ میں شرحوں کو آسان بنا کر دو درجوں — 5 فیصد اور 18 فیصد — میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 5 فیصد زمرہ: بنیادی اشیا جیسے مکھن، گھی، پنیر، پیک شدہ نمکین، زرعی آلات، دستکاری، سلائی مشین کے پرزے، طبی آلات وغیرہ۔ 18 فیصد زمرہ: عام اشیا اور خدمات جیسے چھوٹی گاڑیاں، موٹرسائیکلیں، الیکٹرانکس، گھریلو سامان اور آٹو پارٹس۔ 40 فیصد زمرہ: پرتعیش و مضر صحت اشیا جیسے تمباکو، پان مسالہ، سافٹ ڈرنکس، بڑی موٹرسائیکلیں، یاٹس اور ہیلی کاپٹر۔ مزید یہ کہ تعلیم و صحت کی بعض خدمات کو مکمل طور پر جی ایس ٹی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

Habiburrahman

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

6 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

7 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

7 hours ago