نئی دہلی: برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر جمعرات کو ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی پیش رفت اور عالمی سطح پر درپیش اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کو موجودہ بین الاقوامی حالات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ خطے میں بدلتی سیاسی صورتحال اور عالمی سطح پر بڑھتے چیلنجز کے درمیان مختلف ممالک کے درمیان سفارتی روابط میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ بھارت میں ایران کے سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر سید عباس عراقچی دو روزہ برکس اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اہم ملاقات کی۔ بیان کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے متعدد معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق برکس اجلاس میں شرکت کے لیے ایران سمیت کئی رکن ممالک کے نمائندے بدھ کی شب نئی دہلی پہنچے تھے۔ جمعرات کی صبح وزیر اعظم مودی نے مختلف ممالک کے وفود سے مشترکہ ملاقات کی، جس میں ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی بھی شریک تھے۔ بعد ازاں اجلاس کے سلسلے میں مختلف سفارتی سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق شام کے وقت بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی جانب سے بھارت منڈپم میں غیر ملکی وزرائے خارجہ کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا، جس میں مختلف ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ایس جے شنکر نے دنیا بھر سے آئے ہوئے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے عالمی مسائل کے حوالے سے بھارت کے نقطہ نظر کو تفصیل سے بیان کیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی نظام میں امن اور سلامتی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بین الاقوامی تنازعات نے ایک مرتبہ پھر مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کو درپیش پیچیدہ حالات میں برابری، مشترکہ ذمہ داریوں اور پائیدار ترقی کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی عالمی منظرنامے کو نئی شکل دے رہی ہے اور اس کے مثبت استعمال کے ذریعے بہتر طرز حکمرانی اور جامع ترقی کے مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر مشترکہ تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
دوسری جانب ایرانی حکومت کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ آبنائے ہرمز ان تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہوئی ہے جو ایرانی بحریہ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ رکاوٹیں امریکہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہیں۔ برکس اجلاس کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن، برازیل کے وزیر خارجہ ماؤرو ویئیرا اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی پیش رفت اور مختلف کثیرالجہتی پلیٹ فارمز کے تحت تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق سامنے آیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نانا پاٹیکر نے 1978 میں ڈرامہ فلم ’گمن‘ سے ہندی سنیما میں قدم رکھا تھا۔…
نانا پاٹیکر مراٹھی فلموں میں بھی سرگرم رہے۔ ’نٹ سمراٹ‘ ان کی انتہائی مقبول اور…
پی ایم مودی نے کہا کہ نانا پاٹیکر کو ان کے بے باک اور واضح…
آئی ایم سی 2026 میں 9 بڑے شعبوں کو شامل کیا جائے گا، جن میں…
نانا پاٹیکر کو صبح 5 بج کر 20 منٹ پر مردہ قرار دیا گیا۔ ابتدائی…
بھارت اور امریکہ نے مختلف حکومتوں کے ادوار میں دفاع، ٹیکنالوجی، تجارت اور اسٹریٹجک معاملات…