نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات میں گرمیوں کی آمد سے قبل آبی ذخیرہ اور پانی کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے عوام سے اجتماعی کوششوں کی اپیل کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے کئی حصوں میں گرمی کا آغاز ہو چکا ہے اور یہی وقت ہے کہ پانی بچانے کے عزم کو دوبارہ مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 11 برسوں میں ملک بھر میں تقریباً 50 لاکھ واٹر ہارویسٹنگ ڈھانچے تیار کیے گئے ہیں جبکہ 70 ہزار سے زیادہ امرت سروور بھی بنائے جا چکے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ”جل سنچئے ابھیان“ نے عوام میں بیداری پیدا کی ہے اور اب گاؤں میں بھی کمیونٹی سطح پر پانی بچانے کی تحریک مضبوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہیں پرانے تالابوں کی صفائی کی جا رہی ہے، تو کہیں بارش کے پانی کو محفوظ رکھنے کے لیے نئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بارش کے موسم سے قبل امرت سرووروں کی صفائی کا کام بھی تیزی سے جاری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پانی محفوظ کیا جا سکے۔
وزیر اعظم نے اپنی گفتگو میں تریپورہ کے وانگمون گاؤں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جمپوئی پہاڑیوں میں تقریباً 3 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع یہ گاؤں شدید پانی بحران کا سامنا کر رہا تھا۔ گرمیوں کے دوران گاؤں کے لوگوں کو پانی کے لیے طویل فاصلے طے کرنے پڑتے تھے۔ بعد میں مقامی باشندوں نے بارش کی ہر بوند کو محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا۔ آج تقریباً ہر گھر میں روف ٹاپ رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم نصب ہو چکا ہے اور یہ گاؤں پانی کے تحفظ کی ایک نمایاں مثال بن گیا ہے۔
اسی طرح چھتیس گڑھ کے کوریا ضلع میں کسانوں نے منفرد اقدام کیا۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ یہاں کے کسانوں نے اپنے کھیتوں میں چھوٹے ری چارج تالاب اور سوکھتا گڑھے تیار کیے۔ اس سے بارش کا پانی زمین میں جذب ہونے لگا اور زیر زمین پانی کی سطح بہتر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس ماڈل کو اب بارہ سو سے زیادہ کسان اپنا چکے ہیں اور اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے مزید بتایا کہ تلنگانہ کے مڈی گنٹا گاؤں میں بھی عوامی تعاون سے پانی کے مسئلے کو حل کیا گیا۔ گاؤں کے 400 خاندانوں نے اپنے گھروں میں سوکھتا گڑھے بنائے، جس سے بارش کا پانی محفوظ ہونے لگا۔ اس اقدام سے نہ صرف زیر زمین پانی کی سطح بہتر ہوئی بلکہ آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں بھی نمایاں کمی آئی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ اگر عوام متحد ہو کر کوشش کریں تو پانی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں میں پانی بچانے کے اقدامات کریں، پرانے آبی ذخائر کی صفائی کریں اور بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے منصوبہ بندی کریں۔ وزیر اعظم مودی نے زور دیا کہ پانی کا تحفظ آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا معاملہ ہے اور اس میں ہر شہری کا کردار اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک بھر میں اسی جذبے کے ساتھ کام جاری رہا تو بھارت پانی کے بحران سے نمٹنے میں بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کیون رڈ نے کہا - ڈونلڈ ٹرمپ کے دل میں وزیر اعظم نریندر مودی کے…
17 اکتوبر کو جب سرسید احمد خاں کو یاد کیا جائے تو ان کے اس…
گروگرام کے مہارانا پرتاپ سُورن جینتی اُدیان، یعنی لیزر ویلی گراؤنڈ میں 7 اکتوبر کو…
ملک بھر میں جاری ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ کے تحت 7 اکتوبر کو ہریانہ کے گروگرام…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے کہا کہ کوآپریٹو نظام کے ذریعے مویشی…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کے تحت جموں و کشمیر سے…