Categories: قومی

PM to address Lok Sabha today: خصوصی پارلیمانی اجلاس میں وزیراعظم نریندر مودی آج سہ پہر تین بجے لوک سبھا سے کریں گے خطاب

نئی دہلی: ملک میں جاری خصوصی پارلیمانی اجلاس کے دوران آج وزیراعظم نریندر مودی کے لوک سبھا میں دوپہر 3 بجے خطاب کرنے کا امکان ہے، جہاں حکومت تین اہم بل پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ان مجوزہ قوانین میں خواتین کے لیے ریزرویشن، حدبندی (ڈیلمٹیشن) اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے متعلق ترامیم شامل ہیں، جن پر سیاسی درجہ حرارت پہلے ہی کافی بڑھ چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے جن تین بڑے بلوں کو پیش کیا جانا ہے، ان میں آئین (131ویں ترمیم) بل 2026، حد بندی بل 2026 اور یونین ٹیریٹریز لاز (ترمیمی) بل 2026 شامل ہیں۔ مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال ان میں سے دو اہم بل ایوان میں پیش کریں گے، جبکہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ تیسرے بل کو پیش کریں گے۔ ان بلوں کا بنیادی مقصد 2029 کے عام انتخابات سے قبل خواتین کے لیے لوک سبھا میں نشستیں مختص کرنا اور حلقہ بندی کے عمل کے ذریعے انتخابی نقشے کو از سر نو ترتیب دینا ہے۔

خواتین ریزرویشن اور نشستوں میں مجوزہ اضافہ

مجوزہ قانون سازی کے تحت خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو عملی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ ’’ناری شکتی وندن ادھینیم‘‘ سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لوک سبھا کی کل نشستوں کو موجودہ 543 سے بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 850 تک کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نمائندگی میں توازن پیدا ہوگا اور بڑھتی ہوئی آبادی کے مطابق عوامی آواز کو بہتر طور پر پارلیمنٹ میں جگہ ملے گی۔ تاہم اپوزیشن اس معاملے کو محض انتخابی حکمت عملی قرار دے رہی ہے۔

اپوزیشن کے خدشات اور سیاسی کشیدگی

اپوزیشن جماعتوں نے خواتین ریزرویشن کی اصولی حمایت کرتے ہوئے حد بندی بل پر شدید اعتراضات ظاہر کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حلقہ بندی کے ذریعے سیاسی توازن کو تبدیل کیا جا سکتا ہے اور بعض ریاستوں کی نمائندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ حکومت نے ان خدشات کو دور کرنے کے لیے اپوزیشن سے تعاون کی اپیل کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی پہلے ہی اس معاملے پر تمام جماعتوں سے اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں اور اسے ملک کی خواتین کی خواہش قرار دیا ہے۔ ادھر اپوزیشن کا موقف ہے کہ وہ خواتین کو ریزرویشن دینے کے حق میں ہے، لیکن حد بندی کے طریقہ کار اور اس کے وقت پر سخت تحفظات رکھتی ہے۔ پارلیمنٹ کا یہ خصوصی اجلاس 16 سے 18 اپریل تک جاری رہے گا، جس کے دوران ان بلوں پر تفصیلی بحث اور ممکنہ منظوری متوقع ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق، یہ اجلاس نہ صرف قانون سازی کے لیے اہم ہے بلکہ آنے والے انتخابات اور ملک کے سیاسی منظرنامے پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Ankita Bhandari Case: انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے کی مانگ تیز، انڈیا گیٹ پر والدین سے ملے راہل اور پرینکا گاندھی

انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے اور دشینت گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کیے جانے…

41 minutes ago

Canadian Foreign Minister Meets PM Modi: وزیر اعظم نریندر مودی اور کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کی ملاقات، دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط بنانے پر بات چیت

تجارت، ٹیکنالوجی، سلامتی، توانائی، تعلیم اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے…

1 hour ago

Gold-Silver Price: صارفین کے لیے خوشخبری! مقامی صرافہ بازار میں سونا تقریباً 1000 روپے سستا، جانیے آج کی تازہ قیمتیں

سونے کی قیمتوں میں نرمی سے خریداروں کو راحت، مقامی زیورات کی مارکیٹ میں 22…

1 hour ago