نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ’پریکشا پہ چرچا‘ کے نویں ایڈیشن کی دوسری قسط میں چھتیس گڑھ کی راجدھانی رائے پور میں طلبہ سے کھلے دل کے ساتھ مکالمہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اگر زندگی میں کامیابی کی بلندیوں کو چھونا ہے یا ایک اچھا لیڈر بننا ہے تو سب سے پہلے نڈر بننا ضروری ہے، کیونکہ خوف انسان کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے۔
’پریکشا پہ چرچا‘ کا اصل مقصد
وزیراعظم مودی نے کہا کہ ’پریکشا پہ چرچا‘ کا حقیقی مفہوم ایک ساتھ بیٹھ کر بات کرنا، ایک دوسرے کو سمجھنا اور ایک دوسرے سے سیکھنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سلسلہ چند ہفتے قبل کوئمبٹور سے شروع ہوا تھا اور اب رائے پور تک پہنچا ہے۔ اس دوران انہیں مقامی ثقافت اور ذائقوں سے بھی روشناس ہونے کا موقع ملا۔ انہوں نے پروگرام کا آغاز ’جے جوہار‘ کہہ کر کیا، جس پر طلبہ نے پُرجوش انداز میں جواب دیا۔ مقامی بچوں نے انہیں کھُرمی نامی روایتی مٹھائی پیش کی، جسے وزیراعظم نے نہ صرف خود چکھا بلکہ اپنے ہاتھوں سے سب میں تقسیم بھی کیا۔
سفر اور سیاحت پر عملی مشورے
ایک طالب علم نے سوال کیا کہ امتحانات کے بعد گھومنے کا بہت دل کرتا ہے، تو بھارت میں ایسی کون سی جگہیں ہیں جہاں طلبہ جا سکتے ہیں؟ اس پر وزیراعظم نے کہا کہ سفر کی شروعات دور دراز مقامات سے نہیں بلکہ اپنے آس پاس سے ہونی چاہیے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ پہلے اپنی تحصیل، پھر ضلع اور اس کے بعد ریاست کی اُن جگہوں کی فہرست بناؤ جنہیں ابھی تک نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ طالب علمی کے زمانے میں سادہ اور کفایتی انداز میں سفر کرنا چاہیے، جیسے ٹرین کے عام ڈبے میں سفر، گھر سے کھانا لے جانا اور عام لوگوں کے درمیان رہ کر تجربہ حاصل کرنا۔ یہی اصل سیاحت ہے، جو زندگی کو وسعت دیتی ہے۔ بھارت کی ثقافتی اور جغرافیائی تنوع اتنی وسیع ہے کہ اسے دیکھنے کے لیے ایک زندگی بھی کم پڑ جاتی ہے۔
امتحانی دباؤ سے نمٹنے کے گر
ایک طالبہ نے امتحان کے دوران ذہنی دباؤ کے بارے میں سوال کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ امتحان سے پہلے خود پر اعتماد رکھنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی آپ نے پڑھا ہے وہ ضائع نہیں گیا، بلکہ کہیں نہ کہیں آپ کے اندر محفوظ ہے۔ امتحان کے دوران گھبرانے کے بجائے پرسکون ذہن کے ساتھ سوالیہ پرچہ دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے پڑھائی کو کھیل سے جوڑتے ہوئے کہا کہ جس طرح ایک کھلاڑی مسلسل مشق، ہار-جیت اور مقابلے سے مضبوط بنتا ہے، اسی طرح ایک طالب علم بھی مسلسل محنت اور لگن سے کامیابی حاصل کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے ایک خاص طریقہ بھی بتایا: ’’اگر کسی مضمون میں کمزوری محسوس ہو تو کلاس کے اس طالب علم کو پڑھانا شروع کرو جسے وہ مضمون کم آتا ہو۔ پڑھاتے پڑھاتے خود تمہاری گرفت مضبوط ہو جائے گی۔‘‘
کھیل اور تعلیم میں توازن
کھیل اور تعلیم کے توازن پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دونوں زندگی کے لیے یکساں ضروری ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ سوچ غلط ہے کہ اگر کھیل اچھا ہے تو پڑھائی ضروری نہیں، یا اگر پڑھائی اچھی ہے تو کھیل کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم میں بھی مضبوط بنو اور کھیل میں بھی، تاکہ شخصیت متوازن بنے اور زندگی میں نظم و ضبط پیدا ہو۔
ماحولیات کے تحفظ پر زور
ماحولیات سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ قدرت کی حفاظت ہماری عادت اور مزاج کا حصہ ہونی چاہیے۔ انہوں نے چھوٹی چھوٹی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ دانت برش کرتے وقت پانی بند رکھنا، یا گھر کے بچے ہوئے پانی کو پودوں میں ڈالنا جیسے اقدامات بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ایک اسکول کی مثال دی جہاں استاد نے بچوں کو روزانہ ضائع ہونے والا پانی بوتل میں لاکر پودوں میں ڈالنے کی ترغیب دی، جس سے پورا اسکول سرسبز ہو گیا۔ قیادت سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم مودی نے کہا: ’’اگر لیڈر بننا ہے تو سب سے پہلے نڈر بننا ہوگا۔ یہ سوچ اپنانی ہوگی کہ کوئی کرے یا نہ کرے، میں ضرور کروں گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ قیادت کا مطلب صرف انتخابات لڑنا یا تقریر کرنا نہیں، بلکہ لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا اور انہیں سمجھانا ہے۔ پروگرام کے اختتام پر طلبہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم سے ملاقات اور اس انداز میں رہنمائی ملنا ان کے لیے کسی خواب کی تعبیر سے کم نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…
حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے…
بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی…