قومی

New Urea Policy 2026: یوریا بحران کا حل! مرکز نے تیار کیا نیا منصوبہ، مارچ 2026 سے نافذ ہوں گے نئے قواعد

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے ملک میں یوریا کی قلت اور کالابازاری سے پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے لیے نیا جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ ہر سال فصلوں کے موسم میں یوریا کی کمی، ڈیلروں کی جانب سے ذخیرہ اندوزی اور کسانوں کے استحصال کی خبریں عام ہوتی تھیں، لیکن اب حکومت اس مسئلے کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے سخت اور مؤثر اقدامات کرنے جا رہی ہے۔ وزارتِ کیمیکلز و فرٹیلائزر نے واضح کیا ہے کہ مارچ 2026 یعنی اگلے چار ماہ کے اندر یوریا پالیسی کے اہم اصولوں میں بڑی تبدیلیاں نافذ ہو جائیں گی، جس سے نہ صرف کسانوں کو فائدہ ہوگا بلکہ صنعت میں بھی شفافیت بڑھے گی۔ مرکزی فرٹیلائزر سیکریٹری رجت مشرا کے مطابق، ”اگلے چار مہینوں میں ایسے اہم فیصلے نافذ کیے جائیں گے جو صنعت کی ساکھ کو مضبوط کریں گے اور کسانوں کو حقیقی فائدہ پہنچائیں گے“۔ ان کے مطابق حکومت نے یوریا کی قلت اور غیر زرعی شعبوں میں سبسڈی والے یوریا کے بےجا استعمال کو روکنے کے لیے باریک بینی سے تیار کردہ منصوبہ پیش کیا ہے۔

کیا ہوگا بڑا بدلاؤ؟
حکومت مارچ 2026 سے جو اہم قواعد نافذ کرنے جا رہی ہے، ان میں شامل ہیں: سبسڈی والے یوریا کی خرید پر ’لینڈ لنکڈ کیپ‘: اب ہر کسان کو صرف اس کے کھیت کے رقبے کے حساب سے ہی یوریا ملے گا، جس سے غیر زرعی استعمال پر روک لگے گی۔ گیس پر مبنی یوریا پلانٹس کی فکسڈ کاسٹ میں ترمیم: ملک میں موجود 30 یوریا پلانٹس کی لاگت 25 برس سے نہیں بدلی گئی تھی، اب حکومت اسے جدید تقاضوں کے مطابق بڑھانے کا فیصلہ کر رہی ہے۔ نيوٹریئنٹ بیسڈ سبسڈی (این بی ایس) کو یوریا پر بھی نافذ کرنے کی تیاری۔ سبسڈی کی ادائیگی میں مکمل شفافیت پیدا کرنا۔ جی ایس ٹی ان پٹ ٹیکس کریڈٹ (آئی ٹی سی) سے متعلق مشکلات ختم کرنا۔

یوریا پالیسی پر ذمّہ داروں کے بیانات
مرکزی فرٹیلائزر وزیر جے پی نڈا نے پارلیمنٹ میں کہا کہ حکومت سبسڈی والے یوریا کی طلب کو کسانوں کی زمین کے سائز سے جوڑنے کے لیے پائلٹ پروجیکٹ شروع کر رہی ہے، کیونکہ بڑے پیمانے پر یوریا غیر زرعی سرگرمیوں میں استعمال ہو رہا ہے جس سے اصلی کسان متاثر ہوتے ہیں۔ سیکریٹری رجت مشرا نے بھی واضح کیا کہ حکومت یوریا پلانٹس کی فکسڈ کاسٹ میں بڑے اضافہ کو اسی سال کے آخر تک حتمی شکل دے گی۔

ان تبدیلیوں کے کیا ہوں گے اثرات؟
ماہرین کے مطابق ان تبدیلیوں کے بعد یوریا کی کالابازاری میں نمایاں کمی آئے گی، سبسڈی کی چوری اور ڈائیورژن کم ہوگا، اصل کسانوں کو وقت پر اور مناسب مقدار میں یوریا مل سکے گا، صنعت میں شفافیت اور کارکردگی بڑھے گی۔ حکومت کا ہدف ہے کہ مارچ 2026 تک یہ تمام تبدیلیاں مکمل طور پر زمین پر اتار دی جائیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ نئی پالیسی کسانوں کی مشکلات کو کس حد تک کم کرتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

33 minutes ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

1 hour ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

2 hours ago