قومی

West Asia Conflict: آبنائے ہرمز سے بھارتی جہازوں کی آمدورفت بحال، صنعتکاروں نے مودی کی سفارت کاری کو سراہا

نئی دہلی: ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملنے کے بعد بھارتی جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت کو ملک کے صنعتی حلقوں نے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں اور حکمت عملی کی تعریف کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجازت ملنے کے بعد بھارت سے وابستہ کئی جہاز اب محفوظ طریقے سے اپنے طے شدہ مقامات کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کو انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس راستے کی بندش یا رکاوٹ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کاروباری تنظیم سوراشٹر چیمبر آف کامرس کے صدر سنجے جھاویری نے خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے ملک کے صنعتی حلقے وزیر اعظم نریندر مودی کے شکر گزار ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی متوازن اور مؤثر سفارت کاری کے باعث ایران سے بات چیت ممکن ہوئی جس کے نتیجے میں بھارتی جہازوں کو اس اہم سمندری راستے سے گزرنے کی اجازت ملی۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران کئی ممالک کے جہاز اس راستے پر پھنس گئے تھے جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ تاہم بھارتی جہازوں کو آگے بڑھنے کی اجازت ملنے کے بعد صورتحال بتدریج معمول پر آنا شروع ہو گئی ہے۔ سنجے جھاویری نے کہا کہ کچھ وقت کے لیے ملک کے صنعتی حلقوں میں تشویش پیدا ہو گئی تھی کیونکہ متعدد صنعتوں کی سپلائی چین اسی راستے سے منسلک ہے۔ خاص طور پر وہ صنعتیں جو ایل پی جی پر انحصار کرتی ہیں، ان کی پیداواری سرگرمیاں توانائی کی فراہمی پر منحصر ہوتی ہیں۔

ان کے مطابق اگر سمندری راستہ طویل عرصے تک بند رہتا تو اس کے نتیجے میں کئی صنعتوں کو خام مال اور ایندھن کی فراہمی میں مشکلات پیش آ سکتی تھیں۔ تاہم اب جہازوں کی محفوظ آمدورفت شروع ہونے سے صنعتکاروں کو بڑی راحت ملی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت کی دور اندیش پالیسیوں اور سفارتی حکمت عملی نے صنعت و تجارت کے شعبے کو اعتماد فراہم کیا ہے۔ ان کے بقول وزیر اعظم مودی ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی اور بین الاقوامی تنازعات کا حل بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

سنجے جھاویری نے کہا کہ اس مشکل صورتحال کے درمیان دو جہازوں کو روانہ ہونے کی اجازت ملنا ایک مثبت اشارہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں مزید جہاز اس راستے سے گزر سکیں گے جس سے عالمی اور علاقائی تجارت کو بھی فائدہ ہوگا۔ صنعتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نہ صرف عوامی فلاح و بہبود بلکہ قومی مفادات کے تحفظ کو بھی اولین ترجیح دیتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ سفارتی کوششوں کے باعث مشکل حالات کے باوجود بھارت اپنے تجارتی اور توانائی سے متعلق مفادات کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

25 minutes ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

48 minutes ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

1 hour ago