قومی

PM Modi Calls for UNSC Reforms: ’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات اب مزید نہیں ٹل سکتیں‘، برکس پلیٹ فارم سے پی ایم مودی کا دوٹوک مطالبہ، گلوبل ساؤتھ کو مناسب نمائندگی دینے پر زور

نئی دہلی میں 18ویں برکس سربراہی اجلاس کا آغاز وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب سے ہوا۔ انہوں نے تمام لیڈروں کا خیرمقدم کرتے ہوئے دو روزہ اجلاس کو تاریخی قرار دیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان کی برکس صدارت ’عوام مرکوز‘ اور ’انسانیت سب سے پہلے‘ کے نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ لچکداری، جدت، تعاون اور پائیداری ہماری ترجیحات رہی ہیں۔ اسی پلیٹ فارم سے انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت بھی زور دار انداز میں اٹھائی۔

’اگلے 20 برسوں کے لیے پرعزم ایجنڈا تیار کرنا ہوگا‘

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہمیں آنے والے 20 برسوں کے لیے ایک پرعزم ایجنڈا تیار کرنا ہوگا۔ اس کی شروعات اپنی داخلی کارکردگی اور طریقہ کار سے ہونی چاہیے۔ اس کے لیے ایک جامع روڈ میپ ضروری ہے، جس میں نمائندگی، جوابدہی اور قواعد و ضوابط، ان تین پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی جائے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کو اب مزید ٹالنا ممکن نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ہونے والی بات چیت کو ایک مقررہ مدت اور ٹھوس نتائج سے جوڑا جانا چاہیے۔

عالمی مالیاتی اداروں میں بھی تبدیلی کی ضرورت

وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں میں ووٹنگ کے اختیارات، قیادت کے کردار اور پالیسی ترجیحات موجودہ اقتصادی حقائق کے مطابق ہونی چاہئیں۔ جو ممالک عالمی اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، انہیں اقتصادی نظم و نسق میں بھی مناسب مقام اور کردار ملنا چاہیے۔

برکس کی 20ویں سالگرہ تاریخی سنگ میل

پی ایم مودی نے کہا کہ اس سال برکس اپنی 20ویں سالگرہ منا رہا ہے، جو ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ انہوں نے اسے ’بلوغت کے مرحلے میں داخل ہونے‘ کا لمحہ قرار دیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جس طرح انسانی زندگی میں 20 سال کی عمر ذمہ داری اور پختگی کے ایک نئے مرحلے کی علامت ہوتی ہے، اسی طرح برکس بھی اب نئی سمت اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں برکس نے عالمی سطح پر اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ہے۔

’اتحاد کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کا وقت‘

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ برکس کسی کے خلاف نہیں بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کے نظریے پر یقین رکھتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ گروپ کی یکجہتی اور اتفاق رائے کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے اگلے 20 برسوں کے لیے ایک پرعزم ایجنڈے پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

برکس کی صدارت ہر سال تبدیل ہوتی ہے

وزیر اعظم نے کہا کہ برکس کی صدارت ہر سال تبدیل ہوتی ہے، لیکن اس کی وجہ سے ادارہ جاتی رفتار متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے برکس میں ’تسلسل اور عمل درآمد کا نظام‘ قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس کے تحت ٹرائیکا ماڈل کے ذریعے مختلف اقدامات اور حاصل ہونے والے نتائج کا مسلسل جائزہ اور فالو اَپ کیا جا سکے گا۔

’گلوبل ساؤتھ بحرانوں میں آگے، فیصلہ سازی میں پیچھے‘

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آج گلوبل ساؤتھ کے ممالک بحرانوں کا سامنا کرنے میں سب سے آگے ہیں، لیکن فیصلہ سازی کے عمل میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ہمیں مراعات پر مبنی ڈھانچے کو شراکت داری کے پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایسا نظام ہونا چاہیے جہاں ہر ملک کی آواز سنی جائے، ہر رکن کی مناسب شراکت داری ہو اور ہر کوشش کا مرکز انسانیت کی ترقی ہو۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

4 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

4 hours ago