قومی

PM Modi Cabinet Approves Vistar Scheme: 4,371 کروڑ روپے کے ’وِستار‘ اسکیم کو منظوری، اب ڈیٹا کی بنیاد پر بنیں گی پالیسیاں اور تیز ہوگا ڈیجیٹل تبدیلی کا عمل

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی کابینہ نے بدھ کے روز ’وکست بھارت انیشی ایٹو فار اسٹیٹسٹیکل ٹرانسفارمیشن، اینالیٹکس اینڈ ریسرچ‘ یعنی ’وِستار‘ اسکیم کو منظوری دے دی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پہل ملک کے سرکاری شماریاتی نظام کو جدید بنانے اور اسے مستقبل کی ضروریات کے مطابق تیار کرنے کی سمت میں ایک بڑا قدم ثابت ہوگی۔

وکست بھارت 2047 کے وژن کو ملے گا سہارا

حکومت کے مطابق، اس اسکیم کو وکست بھارت 2047 کے ہدف کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ایسا شماریاتی نظام تیار کرنا ہے جو حقیقی وقت کے اعداد و شمار پر مبنی ہو، تیزی سے کام کر سکے اور مستقبل کے چیلنجز کے مطابق خود کو ڈھال سکے۔ اس کے ساتھ ہی ڈیٹا کے معیار، درستگی اور مختلف پلیٹ فارمز کے درمیان بہتر تال میل کو یقینی بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیے کے لیے موزوں ڈیٹا سیٹ تیار کرنا بھی اس پہل کا حصہ ہے۔

پانچ برس تک جاری رہے گی اسکیم

کابینہ کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق، وِستار اسکیم مالی سال 2026-27 سے شروع ہو کر مالی سال 2030-31 تک نافذ رہے گی۔ اس پوری مدت کے لیے 4,371.10 کروڑ روپے کا بجٹ مقرر کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے ضرورت کے مطابق وسائل کا استعمال کیا جا سکے گا، جس سے بدلتی ہوئی پالیسی ضروریات کے مطابق تیزی سے فیصلے لینے میں مدد ملے گی۔

سروے، تحقیق اور ڈیجیٹل نظام پر رہے گا زور

اس پروگرام کے تحت بڑے پیمانے پر سروے کرانے، شماریاتی طریقۂ کار پر نئی تحقیق کو فروغ دینے، ڈیٹا سے متعلق نظام کو ڈیجیٹل طور پر مضبوط بنانے اور قومی ڈیٹا گورننس کو بہتر کرنے پر کام کیا جائے گا۔ وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ کی تمام اہم ڈیٹا اور شماریاتی سرگرمیوں کو اسی پروجیکٹ کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس سے ملک کے سرکاری شماریاتی نظام کو نئی مضبوطی ملے گی۔

تین حصوں میں نافذ ہوگا وِستار منصوبہ

اس اہم پروگرام کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں وسیع پیمانے پر شماریاتی سرگرمیاں اور نظام کو مضبوط بنانا، شماریاتی استحکام کے لیے معاونت (ایس ایس ایس) اور اقتصادی مردم شماری (ای سی) شامل ہیں۔ ان تینوں ذرائع سے ڈیٹا جمع کرنے، اس کا تجزیہ کرنے اور اسے استعمال کرنے کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

59 نئے سروے کرانے کی تیاری

وسیع پیمانے پر شماریاتی سرگرمیوں اور نظام کو مضبوط بنانے کے تحت وزارت نے 16ویں مالیاتی کمیشن کے دورانیے میں 59 سروے کرانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس سے پہلے 43 اہم سروے کرائے جا چکے ہیں۔ نئے سروے مختلف شعبوں میں ڈیٹا کی کمی کو دور کرنے میں مدد دیں گے، جس سے پالیسی سازی زیادہ درست اور بروقت ہو سکے گی۔

ریاستوں کو ایس ایس ایس 2.0 کے تحت ملے گی مدد

شماریاتی استحکام کے لیے معاونت کے پروجیکٹ کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ایک نئے نتائج پر مبنی نظام، ایس ایس ایس 2.0، کے ذریعے مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ اس کا مقصد ریاستوں کی شماریاتی صلاحیت اور ڈیٹا کے انتظام کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

آٹھویں اقتصادی مردم شماری سے ملے گا بڑا ڈیٹا بیس

اسکیم کے اقتصادی مردم شماری والے حصے کے تحت وزارت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تعاون سے آٹھویں اقتصادی مردم شماری کرائے گی۔ اس کے ذریعے گرام پنچایت اور وارڈ کی سطح تک موجود تمام غیر زرعی کاروباری اداروں اور ان میں کام کرنے والے ملازمین کی تفصیلی معلومات جمع کی جائیں گی۔ اس مشق سے غیر منظم شعبے کی حقیقی صورتِ حال سامنے آئے گی اور قومی شماریاتی کاروباری رجسٹر (ایس بی آر) تیار کرنے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم ہوگی۔ اس سے مستقبل میں مخصوص کاروباری سروے اور پالیسی سے متعلق اقدامات کو آسان بنایا جا سکے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

این سی پی میں اندرونی کشمکش! سنیل تٹکرے اور پرفل پٹیل کے عہدوں پر تعطل برقرار، ذیشان صدیقی کی تقرری پر کوئی خطرہ نہیں

نائب وزیراعلیٰ سنیترا پوار کے بیٹے پارتھ پوار نے ایک بارپھر دہرایا کہ آئندہ پارٹی…

21 minutes ago

قدیمی مسجد ہٹانے کے مرکز کے حلف نامہ پربرہم ہوئے عمران مسعود، کہا- آج مسجد ہٹاوگے، کل مندروں کا کیا کروگے؟

دہلی کی 100 سال پرانی قدیمی مسجد ہٹانے کے مرکز کے حلف نامہ پر تنازعہ…

2 hours ago