قومی

PM Modi BRICS 20 Years: برکس اپنی پختگی کے دور میں پہنچ چکا ہے، اب آئندہ 20 برسوں کے لیے نئے اور پرعزم ایجنڈے پر کام کرنا ہوگا: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برکس نے اپنے قیام کے 20 سال مکمل کر لیے ہیں اور اب یہ تنظیم اپنی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق دو دہائیاں مکمل ہونے کے بعد برکس کے سامنے اگلے 20 برسوں کے لیے ایسا ایجنڈا تیار کرنے کی ضرورت ہے جو پرعزم ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے عام لوگوں کی ضروریات سے بھی جڑا ہو۔ وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں برکس نے عالمی سطح پر اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ہے۔ مختلف ممالک کی ترجیحات اور حالات الگ ہونے کے باوجود تنظیم نے بات چیت، باہمی احترام اور اتفاق رائے کے راستے پر آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے۔

ہندوستان کی صدارت میں عام لوگوں پر توجہ

پی ایم مودی نے کہا کہ اس سال ہندوستان کی برکس صدارت کی بنیاد ’عوام مرکوز‘ اور ’انسانیت سب سے پہلے‘ کے نقطہ نظر پر رہی۔ اس دوران لچک، جدت، تعاون اور پائیداری کو اہم ترجیحات میں شامل کیا گیا۔ کوشش یہ رہی کہ برکس کی سرگرمیاں صرف حکومتوں اور سفارتی اجلاسوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عام لوگوں سے بھی ان کا براہ راست تعلق قائم ہو۔انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کی صدارت کے دوران 350 سے زیادہ اجلاس منعقد کیے گئے اور تقریباً 30 ہندوستانی شہروں میں مختلف ممالک کے وفود کا استقبال کیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے برکس تعاون کو ملک کے مختلف حصوں اور عوام کے قریب لانے کا موقع ملا۔

’پختگی کے دور‘ میں پہنچا برکس

مودی نے برکس کے 20 سال مکمل ہونے کو تنظیم کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا۔ انہوں نے اس کا موازنہ انسان کی 20 سال کی عمر سے کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب خوابوں کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بڑھتی ہیں اور صلاحیتوں کو نئی سمت ملتی ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق برکس نے بھی گزشتہ 20 برسوں میں کافی تجربہ حاصل کیا ہے۔ اب چیلنج یہ ہے کہ تنظیم کے اندر قائم اتفاق رائے اور اتحاد کو عالمی سطح پر ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ برکس کسی کے خلاف کھڑا ہونے والا پلیٹ فارم نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا ہے۔

صدارت تبدیل ہونے کے باوجود کام کی رفتار برقرار رہے

برکس کو مزید مؤثر بنانے کے لیے وزیر اعظم مودی نے ایک نئے ’برکس تسلسل اور عمل درآمد کے طریقہ کار‘ کی تشکیل کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ برکس کی صدارت ہر سال ایک مختلف ملک کے پاس ہوتی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ایک صدر کی مدت ختم ہونے کے ساتھ پہلے سے شروع کیے گئے کام کی رفتار کم نہ ہو۔

مجوزہ نظام کے تحت ٹرائیکا ماڈل کے ذریعے مختلف اقدامات اور کیے گئے فیصلوں کی مسلسل نگرانی اور جائزہ لیا جا سکے گا۔ اس سے تنظیم کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے میں تسلسل برقرار رکھنے میں مدد ملنے کی امید ہے۔

عالمی نظام میں تبدیلی کی ضرورت

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں موجودہ عالمی نظام پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا کا نظام کسی حد تک ایسے اہرام کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں فیصلے کرنے کی طاقت اوپر مرکوز ہے، جبکہ کئی ایسے ممالک نیچے ہیں جو ان فیصلوں سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں، لیکن فیصلہ سازی کے عمل میں ان کی مناسب شراکت داری نہیں ہے۔ مودی نے کہا کہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک آج دنیا کے بڑے بحرانوں کا سب سے زیادہ اثر برداشت کر رہے ہیں، لیکن عالمی سطح پر فیصلے لینے کے عمل میں ان کی آواز اتنی مضبوط نہیں ہے۔ اس لیے اس نظام کو ’مراعات کے اہرام‘ سے تبدیل کرکے ’شراکت داری کے پلیٹ فارم‘ میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

برکس ممالک سے 10 تجاویز تیار کرنے کی اپیل

وزیر اعظم نے برکس کے رکن ممالک سے عالمی نظام میں اصلاحات کے لیے مل کر 10 ٹھوس تجاویز تیار کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تجاویز کو اگلی برکس سربراہی کانفرنس تک ایک جامع ’برکس اصلاحاتی روڈ میپ‘ کی شکل دی جا سکتی ہے۔ مودی نے کہا کہ برکس کو مضبوط بنانا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ عالمی اداروں اور عالمی نظام میں اصلاحات کی سمت بھی راستہ تیار کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق برکس کی سب سے بڑی طاقت اس کی گوناگونی، اتفاق رائے پیدا کرنے کی صلاحیت اور جامع سوچ ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

5 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

6 hours ago