نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز نئے متعارف کرائے گئے VB-G RAM G ایکٹ 2025 کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون دیہی روزگار کے تصور کو نئے سرے سے تشکیل دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایکٹ آمدنی کی ضمانت، اثاثہ جاتی تعمیر، زرعی استحکام اور طویل مدتی دیہی پیداواری صلاحیت کو باہم مربوط ایک مسلسل عمل کے طور پر دیکھتا ہے، نہ کہ ایک دوسرے کے متضاد اہداف کے طور پر۔
وزیر اعظم دفتر کا بیان
وزیراعظم دفتر (PMO) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان کا ایک مضمون شیئر کیا، جس میں اس نئے قانون کے مقاصد اور پس منظر کی وضاحت کی گئی ہے۔ پی ایم او کے مطابق، VB-G RAM G ایکٹ 2025 کو متعارف کرانے سے قبل ریاستی حکومتوں کے ساتھ وسیع مشاورت، تکنیکی ورکشاپس اور مختلف فریقوں سے تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ایم جی نریگا پر کانگریس پر تنقید
مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے اپنے بیان میں کانگریس قیادت والی یو پی اے حکومت پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم جی نریگا کے نام پر عوام کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچایا گیا اور اس اسکیم میں بدعنوانی عام رہی۔ چوہان کے مطابق نیا قانون کانگریس دور کی سنگین کوتاہیوں کی اصلاح کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
اپوزیشن کا احتجاج
نئے قانون کے نفاذ کے بعد سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ ڈی ایم کے کی قیادت والے اتحاد نے چنئی میں اس ایکٹ کے خلاف احتجاج کیا۔ کئی اپوزیشن رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ مرکز حکومت روزگار کی ضمانت کی اصل روح کو کمزور کر رہی ہے اور فنڈنگ و عمل درآمد میں تبدیلیوں کے ذریعے وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
روزگار کے دنوں میں اضافہ
نئے ایکٹ کی دفعات کے مطابق دیہی خاندانوں کے لیے سالانہ ضمانتی اجرتی روزگار کو 100 دن سے بڑھا کر 125 دن کر دیا گیا ہے۔ یہ سہولت ان بالغ افراد کے لیے ہوگی جو غیر ہنرمند جسمانی مشقت پر آمادہ ہوں گے۔ حکومت نے اسے دیہی خاندانوں کے لیے سماجی تحفظ میں ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔
مرکز اور ریاستوں کے درمیان فنڈ شیئرنگ
ایکٹ کی شق 22 کے تحت مرکز اور ریاستوں کے درمیان فنڈ شیئرنگ کا نیا تناسب 60:40 مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم شمال مشرقی ریاستوں، ہمالیائی علاقوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، جن میں اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر شامل ہیں، کے لیے مرکز کا حصہ 90 فیصد جبکہ ریاستوں کا حصہ 10 فیصد ہوگا۔
زرعی سیزن میں کام کے ضوابط
ایکٹ کی شق 6 کے مطابق ریاستی حکومتوں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ زرعی مصروف سیزن، جیسے بوائی اور کٹائی کے دوران، سال میں زیادہ سے زیادہ 60 دن کے لیے اس اسکیم کے تحت روزگار کو ضابطے میں رکھ سکیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
یہ اعزاز 30 ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں پیش آنے…
سمندری طوفان کے اثر سے آندھرا پردیش کے انکاپلی، وشاکھاپٹنم، کاکیناڈا اور کونسیما اضلاع میں…
اکاسا ایئر نے بتایا کہ پروازیں منسوخ ہونے سے متاثرہ مسافر مکمل رقم واپسی کا…
مرکزی وزیر مملکت برائے کھیل رکشا کھڈسے نے اس تاریخی پروگرام کی ستائش کرتے ہوئے…
وائٹ ہاؤس کے مطابق میلانیا ٹرمپ اور ان کے نمائندے نے جنگ بندی کی شرائط…
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جن مساجد کو آج نقصان پہنچایا جا رہا ہے…