نئی دہلی : اتر پردیش کے وارانسی میں روپاپور-بھیڈہرا ہائی وے کے کنارے جدید ترین اروند ٹیکسٹائل فیکٹری کا آغاز ہو گیا ہے۔ تقریباً 8 ایکڑ رقبے پر پھیلی اس بڑی فیکٹری کا افتتاح 25 اکتوبر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا۔ اس فیکٹری کے آغاز کو مشرقی اتر پردیش میں روزگار اور ٹیکسٹائل صنعت کے لیے ایک نئے باب کی شروعات قرار دیا جا رہا ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق، فی الحال اس فیکٹری میں تقریباً 1000 ملازمین کام کر رہے ہیں اور تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ کمپنی کا منصوبہ ہے کہ آنے والے وقت میں مزید تقریباً 1000 افراد کو روزگار سے جوڑا جائے۔ اس منصوبے میں اب تک 100 سے 120 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کیے جانے کی اطلاع ہے۔فیکٹری کے افتتاح کے موقع پر اروند لمیٹڈ کے وائس چیئرمین کولن لال بھائی نے خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ہمیں فخر ہے کہ اروند لمیٹڈ نے وارانسی میں جدید ترین ملبوسات کی تیاری کی سہولت قائم کی ہے۔ ہم نے یہ پوری فیکٹری محض 2 سے 3 سال میں تیار کی ہے۔ یہاں 1000 سے زیادہ خواتین کو روزگار ملے گا اور یہاں تیار ہونے والے ملبوسات پوری دنیا میں برآمد کیے جائیں گے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں کام کرنے والی تمام خواتین وارانسی کی مقامی رہائشی ہیں۔ اس فیکٹری کی وجہ سے بالواسطہ روزگار کے بھی بڑے پیمانے پر مواقع پیدا ہوں گے۔‘‘
وزیر اعظم سے ملاقات خواتین ملازمین کے لیے یادگار لمحہ
فیکٹری میں کام کرنے والے ملازمین اور زیر تربیت افراد میں وزیر اعظم سے ملاقات کو لے کر خاصا جوش و خروش دیکھا گیا۔ کئی خواتین ملازمین نے اس تجربے کو اپنی زندگی کا یادگار لمحہ قرار دیا۔فیکٹری میں آپریٹر کے طور پر کام کرنے والی سندھیا نے کہا کہ فیکٹری میں کام کرکے انہیں بہت اچھا محسوس ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد ان کی خوشی مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں مسلسل کام کرنے سے ان کی زندگی میں یقیناً بڑی تبدیلی آئے گی۔وساو دکش نے بتایا کہ وزیر اعظم نے ان سے بات کی اور فیکٹری کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے پوچھا کہ انہیں یہاں کام کرتے ہوئے کتنا وقت ہوا ہے اور یہاں کے انتظامات کیسے ہیں۔ وزیر اعظم سے گفتگو کرکے انہیں بہت اچھا لگا۔انجلی نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے آمنے سامنے بات کرکے انہیں بے حد خوشی ہوئی اور یہ تجربہ ان کی زندگی پر مثبت اثر ڈالے گا۔
کمپنی کے ساتھ اپنا مستقبل بھی روشن کرنا چاہتی ہیں خواتین
بینو وشوکرما نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم سے مل کر انہیں بہت خوشی ہوئی، اگرچہ انہیں براہ راست بات کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کمپنی میں کام کرکے اپنا مستقبل روشن بنانا چاہتی ہیں اور کمپنی کی ترقی کے ساتھ خود بھی آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔فیکٹری میں کام کرنے والی سیما کنوجیا نے بتایا کہ اگرچہ انہیں وزیر اعظم سے بات کرنے کا موقع نہیں ملا، لیکن انہیں قریب سے دیکھنا اور اس احاطے میں آنے کا موقع ملنا ہی ان کے لیے بڑی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں آکر انہیں زندگی میں کچھ کر دکھانے کی تحریک مل رہی ہے۔سیما نے فیکٹری میں تیار ہونے والی مصنوعات کے بارے میں بتایا کہ یہاں سلائی سے متعلق مختلف کام کیے جاتے ہیں۔ کام کی تقسیم مختلف سطحوں کے مطابق کی گئی ہے۔ یہاں ٹی شرٹ، شرٹ، جیکٹ، لوئر، شیروانی، مردوں کے باکسر اور خواتین کی لیگنگ سمیت کئی طرح کے ملبوسات تیار کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کچھ ملازمین سلائی کا کام کرتے ہیں، جبکہ دیگر افراد کپڑوں کے بنڈل بنانے اور ان پر لیبل لگانے کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔
ملازمین کو دی جا رہی ہے پیشہ ورانہ تربیت
سروج دیوی نے بتایا کہ فی الحال فیکٹری میں سلائی کا کام جاری ہے اور ملازمین کو تربیت بھی دی جا رہی ہے۔ پہلے بیچ کی تربیت مکمل ہو چکی ہے، جبکہ دوسرے بیچ کی تربیت جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ فیکٹری میں شرٹ، پینٹ، ٹی شرٹ، کرتی اور فلاور ٹی شرٹ جیسے ملبوسات تیار کیے جا رہے ہیں۔ تربیت کے ذریعے خواتین کو مختلف کاموں میں مہارت حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے۔
1931 میں احمد آباد سے شروع ہوا تھا اروند گروپ
اروند گروپ کی شروعات 1931 میں گجرات کے احمد آباد میں ہوئی تھی۔ گزشتہ 9 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے یہ گروپ ٹیکسٹائل صنعت میں ایک نمایاں نام ہے۔یہ گروپ ڈینم، سوتی اور لینن کے کپڑوں، سوٹنگ فیبرک، اسپورٹس ویئر اور صنعتی استعمال کے لیے خصوصی کپڑوں کی تیاری کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گروپ کئی بڑے ملکی اور بین الاقوامی ملبوسات کے برانڈز کو بھی کپڑے فراہم کرتا ہے۔وارانسی میں نئی فیکٹری کے آغاز سے اروند گروپ کی شمالی ہندوستان میں موجودگی مزید مضبوط ہونے کی امید ہے۔ اس منصوبے سے مقامی خواتین کو روزگار اور ہنر سیکھنے کے مواقع ملنے کے ساتھ علاقے میں بالواسطہ معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
سری لنکا نے اتوار کو بتایا کہ اس کی سمندری حدود کے قریب پھنسے ایرانی…
ایشین پیرا گیمز 2026 میں بھارت نے 30 طلائی سمیت 114 تمغے جیتے۔ تاریخی کارکردگی…
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نبین نے اتوار کو رانچی…
ایئر شو میں چنئی اور گوالیار سمیت ملک کے 12 ایئر بیس سے طیاروں نے…
’من کی بات‘ کی 139ویں قسط میں دریا کی بحالی کا ذکر، بارش کے پانی…
فلمی صنعت سے وابستہ ذرائع کے مطابق، انیش فلم میں ایک ایسے نوجوان کا کردار…