جکارتہ: وزیراعظم نریندر مودی اپنے تین ملکی دورے کے پہلے مرحلے میں پیر کے روز انڈونیشیا پہنچ گئے۔ جکارتہ پہنچنے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جبکہ ایک خصوصی اعزاز کے طور پر انڈونیشیا کے صدر پربوو سوبیانتو خود ہوائی اڈے پر ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ وزیر اعظم مودی کے خصوصی طیارے کے انڈونیشیا کی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی انڈونیشیائی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے اسے اعزازی حصار میں لے لیا۔ جکارتہ پہنچنے کے بعد وزیر اعظم نے روایتی ثقافتی پروگرام بھی دیکھا۔
تین روزہ دورے میں دوطرفہ تعلقات پر توجہ
وزیر اعظم مودی 6 سے 8 جولائی تک انڈونیشیا کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ 2018 میں ان کے پہلے دورۂ انڈونیشیا کے دوران دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک پہنچایا تھا۔ اس کے بعد یہ ان کا پہلا دوطرفہ دورہ ہے۔ یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ انڈونیشیا کے صدر پربوو سوبیانتو 26 جنوری 2025 کو بھارت کے یومِ جمہوریہ کی تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے تھے۔
تہذیبی اور عوامی روابط مزید مستحکم ہوں گے
روانگی سے قبل جاری اپنے بیان میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان مضبوط تہذیبی، ثقافتی اور عوامی روابط موجود ہیں اور ان کا یہ دورہ دونوں ممالک کے کثیرالجہتی تعلقات کو مزید گہرا کرے گا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا یہ دورہ بھارت کے ان اہم شراکت دار ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا دورہ بھارت کی ’ایکٹ ایسٹ پالیسی‘، ’مہاساگر وژن‘ اور آزاد و کھلے ہند-بحرالکاہل خطے کے تصور کو مزید تقویت دے گا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ ’مہاساگر‘ (MAHASAGAR) یعنی Mutual and Holistic Advancement for Security Across the Regions کا مقصد سمندری خطے میں سلامتی، استحکام اور ہمہ گیر ترقی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ انڈونیشیا میں مقیم بھارتی برادری سے بھی ملاقات کریں گے اور صدر پربوو سوبیانتو کے ہمراہ یوگیاکارتا میں واقع تاریخی پرمبانن مندر کا دورہ کریں گے، جو دونوں ممالک کے قدیم ثقافتی تعلقات کی ایک نمایاں علامت ہے۔
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھی جائیں گے
انڈونیشیا کے دورے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی آسٹریلیا اور پھر نیوزی لینڈ کا بھی دورہ کریں گے۔ بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان تقریباً دو ہزار برس پرانے تہذیبی اور تجارتی تعلقات قائم ہیں۔ 1991 میں بھارت کی ’’لک ایسٹ پالیسی‘‘ اختیار کیے جانے کے بعد سیاسی، دفاعی، سلامتی، تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل وسعت آئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ووشو میں روشیبینا دیوی نے سلور جبکہ روئنگ کے مینز ڈبل اسکلز مقابلے میں ستنم…
’اڈانی آروگیہ مندر‘ میں جدید میڈیکل کالج، جدید تحقیق اور طبی نگہداشت کی سہولیات ہوں…
پی ایچ ڈی سی سی آئی کے سیمینار میں لیبر کوڈز کے عملی نفاذ، اجرت،…
اپوزیشن کی جانب سے گرفتاری کا مطالبہ، 2023 کے قانون کی دفعہ 16 میں انتخابی…
’ڈِس بیٹل‘ کے دوران ریتی تیواری اور قاضی توقیر کے درمیان شدید جھڑپ، ریتی کی…
کنّوا کے قریب تین بلڈوزر کھڑے کرکے اکھلیش یادو کے رتھ پر کی گئی پھولوں…