نئی دہلی: ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اتوار کو کہا کہ پارٹی پنجاب میں امتحانی پرچے کے لیک ہونے کے معاملے کا جائزہ لے گی اور جلد اپنی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے کہا ’’ہم جلد اپنی مستقبل کی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ یہ معاملہ ابھی کل ہی ختم ہوا ہے، اس لیے ہمیں تھوڑا وقت دیجیے۔ ہم اس معاملے کو بھی اٹھائیں گے، فی الحال ہم اس کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔‘‘ سی جے پی کے بانی نے احتجاج میں شامل طلبا کے خلاف درج ایف آئی آر کے معاملے پر حکومت کے ساتھ بات چیت جاری رہنے کی بھی اطلاع دی۔ انہوں نے کہا ’’جن مقدمات کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، ان پر بات چیت جاری ہے۔ کسی بھی طالب علم کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
’سزا کے بجائے پیپر لیک کی روک تھام پر توجہ دی جائے‘
دریں اثنا شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) کے رہنما دلجیت سنگھ چیما نے امتحانی بے ضابطگیوں سے نمٹنے کے لیے صرف سخت سزاؤں پر انحصار کرنے کے بجائے مضبوط حفاظتی اقدامات اور ریاستوں کو زیادہ خود مختاری دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پیپر لیک قانون میں ترمیم کی تجویز پیش کر رہی ہے، جس کے تحت سخت سزائیں، فاسٹ ٹریک عدالتیں، تیز رفتار تحقیقات، 10 کروڑ روپے تک جرمانہ، کم از کم قید کی مدت تین سے بڑھا کر پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ سزا 10 سال کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ چیما نے کہا کہ اصل ترجیح پیپر لیک کو روکنا ہونی چاہیے، جس کے لیے مضبوط سکیورٹی پروٹوکول اور واضح معیاری طریقہ کار (ایس او پی) ضروری ہیں۔
ریاستوں کو اپنے داخلہ امتحانات کرانے کا اختیار دینے کی تجویز
ایس اے ڈی رہنما نے کہا کہ ہندوستان ایک وفاقی ملک ہے، اس لیے ریاستوں کو اپنے داخلہ امتحانات منعقد کرنے کا اختیار دیا جانا چاہیے، جبکہ مرکزی حکومت سکیورٹی معیارات، ایس او پیز اور تکنیکی تعاون فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں کے جغرافیائی، لسانی، بنیادی ڈھانچے اور تکنیکی حالات میں نمایاں فرق ہے، اس لیے ایک ہی مرکزی نظام پیپر لیک کے خطرے سے دوچار رہ سکتا ہے۔ چیما کے مطابق ریاستوں کے پاس پہلے ہی بنیادی ڈھانچہ، عملہ، پولیس اور امتحانی مراکز موجود ہیں، اس لیے انہیں زیادہ ذمہ داری سونپی جانی چاہیے۔ مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعاون پر مبنی وفاقیت کو مضبوط کرنے سے امتحانی نظام زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے اور طلبا کے مفادات کا بہتر تحفظ ممکن ہوگا۔
کانگریس نے پنجاب حکومت اور عام آدمی پارٹی کو نشانہ بنایا
دوسری جانب کانگریس کے ورکنگ صدر سکھویندر سنگھ ڈینی بندالا نے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جب پارٹی دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ-یو جی 2026 پیپر لیک کے خلاف احتجاج کر رہی تھی، اسی دوران پنجاب میں مبینہ طور پر ایک امتحانی پرچہ لیک ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بچوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈالا گیا ہے۔ انہوں نے پنجاب کے وزیرتعلیم کے خلاف بھی سابق مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی طرح کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بندالا نے امتحانی مراکز میں سکیورٹی کی خلاف ورزی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر پرچہ لیک ہوا اور تفتیشی ایجنسیاں اس کی تصدیق کر رہی ہیں تو یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ امتحانی مراکز کے اندر موجود طلبا تک پرچے کیسے اسکین کیے گئے اور جوابات کیسے پہنچائے گئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ امتحانی مراکز پر جیمَر کیوں نصب نہیں کیے گئے اور اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جانی چاہیے۔
فارمیسی افسر کا امتحان بھی مبینہ طور پر لیک
کانگریس رہنما انل جوشی نے کہا کہ قومی سطح پر نیٹ-یو جی 2026 پیپر لیک کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد پنجاب میں فارمیسی افسر کی بھرتی کا امتحان بھی مبینہ طور پر لیک ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 450 آسامیوں اور 25 امتحانی مراکز پر مشتمل اس امتحان کا پرچہ مبینہ طور پر امتحانی مراکز کے باہر موجود ایک منظم نیٹ ورک نے الیکٹرانک آلات کے ذریعے حل کیا۔ جوشی نے پیپر لیک کو ’’نظامی مسئلہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں، لیکن اس صورتحال میں طلبا کہاں جائیں گے۔ اس سے قبل ہفتے کے روز شرومنی اکالی دل نے بھی پنجاب کے وزیرتعلیم ہرجوت بینس کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ پارٹی نے الزام لگایا تھا کہ پنجاب میں چھ پیپر لیک کے واقعات نے لاکھوں امیدواروں کو متاثر کیا ہے، جن میں پنجاب ٹیچر اہلیت ٹیسٹ، بارہویں جماعت کا انگریزی امتحان اور فارمیسی افسر کا امتحان شامل ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مشاق خان کی آخری رسومات میں بڑے فلمی ستاروں کی عدم شرکت پر رضا مراد…
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہفتے کے روز نئی دہلی میں…
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…