قومی

PIL filed against BNS sedition law: بی این ایس کی ’’غداری‘‘ سے متعلق شق پر پی آئی ایل داخل، عدالت نے مرکز سے طلب کیا جواب

سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز بھارتیہ نیائے سنہِتا 2023 (بی این ایس) میں شامل غداری کے قانون، سیکشن 152، کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی ایک عوامی مفاد کی درخواست پر غور کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ چیف جسٹس بی آر گوئی، جسٹس کے ونود چندرن اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بینچ نے مرکز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ یہ درخواست ریٹائرڈ میجر جنرل ایس جی وومباٹکرے نے دائر کی ہے، جو فوج کے سینئر افسر اور وِشِشٹ سیوا میڈل یافتہ ہیں۔

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ بی این ایس کے تحت شامل کیا گیا سیکشن 152 درحقیقت نوآبادیاتی دور کے غداری کے قانون، یعنی انڈین پینل کوڈ کے سیکشن 124A کا نیا اور محض نام بدل کر پیش کیا گیا ورژن ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے جولائی 2022 میں سابق چیف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں ایک بنچ کے ذریعے پرانے غداری قانون پر عمل درآمد روک دیا تھا، اس کے باوجود نئی قانون سازی میں اسی نوعیت کی دفعات کو زیادہ مبہم اور وسیع زبان کے ساتھ دوبارہ نافذ کیا گیا ہے۔

کیا کہتا ہے بی این ایس کا سیکشن 152؟

سیکشن 152 کے مطابق جو کوئی جان بوجھ کر یا ارادتاً الفاظ، تحریر، علامت، بصری اشارے، الیکٹرانک ذرائع یا مالی وسائل کے ذریعے علیحدگی پسندی، مسلح بغاوت یا ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کے خلاف سرگرمیوں کو ہوا دے یا اس کی کوشش کرے وہ عمر قید یا سات سال تک کی قید کے ساتھ ساتھ جرمانے کا بھی مستحق ہو گا۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس قانون کی زبان نہ صرف غیر واضح ہے بلکہ اس سے اظہار رائے، تنقید اور اختلاف کے بنیادی جمہوری حق کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ درخواست میں یہ بھی دلیل دی گئی ہے کہ مذکورہ شق آئین کے آرٹیکل 14 (برابری کا حق)، آرٹیکل 19(1)(a) (اظہارِ رائے کی آزادی) اور آرٹیکل 21 (زندگی اور شخصی آزادی کا حق) کی صریح خلاف ورزی ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ قانون میں استعمال ہونے والے الفاظ ’’جان بوجھ کر‘‘ اور ’’ارادتاً‘‘ کی کوئی واضح تعریف موجود نہیں، جس سے سرکاری اختیارات کا من مانا استعمال ممکن ہو جاتا ہے۔ درخواست گزار نے اس قانون کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسے کالعدم قرار دیا جائے کیوں کہ یہ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے اور تنقید کے حق کو دبانے کی کوشش ہے۔ عدالت نے اس درخواست کو پرانے غداری قانون کے خلاف زیر التوا ایک اور عرضی کے ساتھ جوڑنے کا حکم بھی دیا ہے، تاکہ دونوں کا فیصلہ ایک ساتھ کیا جا سکے۔ مقدمے کی آئندہ سماعت کی تاریخ جلد مقرر کی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Entertainment News: گزشتہ ایک دہائی میں فن کی جگہ آہستہ آہستہ تفریح لے رہی ہے: ربی شیرگل

ربی شیرگل کے گیتوں میں پنجابی موسیقی کے ساتھ راک، صوفی اور لوک موسیقی کا…

33 minutes ago

CEC Suspension Plea: سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے کا عبوری حکم دینے سے کیا انکار

گیانیش کمار کی معطلی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن…

1 hour ago

PM Modi welcomed Swiss President: پی ایم مودی اور سوئس صدر گائے پارملن کے درمیان حیدرآباد ہاؤس میں اہم ملاقات

صدر پارملین کا راشٹرپتی بھون کے احاطے میں رسمی استقبال کیا گیا۔ صدر دروپدی مرمو…

1 hour ago

INDIA Alliance:ملک اور یوپی کا مسلمان تمہاری ذاتی جاگیر نہیں، انڈیا اتحاد پر برسے اسدالدین اویسی

اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے اویسی نے کہا، سماج وادی پارٹی کے لوگوں اور تمہارے…

2 hours ago

RBI MPC’s three-day meeting begins: آر بی آئی کی ایم پی سی کی 3 روزہ میٹنگ شروع، 7 اکتوبر کو شرح سود پر ہوگا فیصلہ

اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی،…

3 hours ago