جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے سلسلے میں بدھ 23 اپریل 2025 کو سپریم کورٹ میں ایک PIL دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ سیاحوں کی حفاظت اور امرناتھ یاتریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
منگل کو دوپہر 2:45 بجے پہلگام کی بائسرن وادی میں دہشت گردوں نے سیاحوں پرحملہ کیا۔ لشکر طیبہ کے ونگ دی ریزسٹنس فرنٹ (TRF) نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ حملے کے بعد قومی دارالحکومت میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ حملے میں ہلاک ہونے والے 28 افراد میں سے زیادہ تر سیاح تھے۔ 2019 میں پلوامہ حملے کے بعد وادی میں یہ سب سے مہلک حملہ ہے۔
سیاحوں میں خوف کا ماحول
پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد سے سیاحوں میں خوف کا ماحول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب سیاح کشمیر چھوڑ کر اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں، جس کی وجہ سے اسٹیشن سے ایئرپورٹ تک سیاحوں کی بڑی بھیڑ دیکھی جارہی ہے۔
سیاحوں پر اس حملے کے بعد مفاد عامہ کی عرضی میں امرناتھ یاتریوں کی حفاظت کے لیے تمام اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ امرناتھ یاترا پہاڑوں کے بیچ ہوتی ہے۔ پہلگام سے امرناتھ کا فاصلہ صرف 32 کلومیٹر ہے۔ امرناتھ یاترا 3 جولائی کو شروع جائے گی، جہاں ہزاروں یاتری جاتے ہیں۔ اس حملے کے بعد امرناتھ یاترا کے لیے حفاظتی انتظامات کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔
دہلی پولیس نے قومی دارالحکومت میں سیکورٹی
دہلی پولیس نے قومی دارالحکومت میں سیکورٹی کو بڑھا دیا ہے اور سیاحتی مقامات اور سرحدی چوکیوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ حکام نے بتایا کہ حساس علاقوں میں ٹریفک کی نقل و حرکت کو بھی کنٹرول کیا گیا ہے۔
یہ سکیورٹی الرٹ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے دورہ بھارت کے موقع پر جاری ، جس کے لیے دہلی اور دیگر شہروں میں پہلے سے ہی حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ پہلگام میں ہلاک ہونے والوں میں دو غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں – ایک متحدہ عرب امارات کا اور دوسرا نیپال سے۔
اتر پردیش پولیس، بارڈرسیکورٹی فورس نے ہندوستان-نیپال سرحد پر چوکسی بڑھائی
اتر پردیش پولیس، بارڈرسیکورٹی فورس اور مختلف انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بھی ہندوستان-نیپال سونولی سرحد پر چوکسی بڑھا دی ہے۔ خطے میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے سیکورٹی اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو سرحد پار کرنے کی اجازت دینے سے پہلے ان کی شناخت چیک کریں۔
مہاراج گنج کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) سومیندر مینا نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ نیپال کی کھلی سرحد سیکورٹی فورسز کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایک دوست ملک ہونے کی وجہ سے روزانہ بہت سے لوگ سرحد عبور کرتے ہیں اور ملک دشمن عناصر اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس ارد و
نئی دہلی، 23 اکتوبر (آئی اے این ایس): پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے،…
امن برقرار رکھنے کے لیے 10,000 روپے کے ذاتی مچلکے اور ایک ضامن سے متعلق…
ناگویا: ہندوستان کے پیرا اولمپک اور عالمی چیمپئن سمیت انتل نے ایک اور بڑی کامیابی…
بچوں کو سائنس اور تحقیق کی جانب راغب کرنے کے لیے چین کی منفرد مہم،…
یو اے ای کے صدر کے دیوان میں ترقیاتی امور اور شہید ہیروز کے معاملات…
چنڈی گڑھ میں سات روزہ شریمد بھاگوت کتھا کا اختتام، بی پراک اور اندریش مہاراج…