کراچی: پاکستان میں اجتماعی ایچ آئی وی انفیکشن کا معاملہ گزشتہ سال نومبر میں سامنے آیا تھا۔ یہ واقعہ صوبہ سندھ کے ایک سرکاری اسپتال کا ہے، جہاں علاج کے دوران 10 یا 20 نہیں بلکہ 78 بچوں کو آلودہ سرنجیں لگا دی گئیں، جس کے نتیجے میں وہ اس جان لیوا بیماری کا شکار ہو گئے۔ متاثرہ خاندان اس وقت سے اسپتال کے ذمہ دار عملے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن کئی ماہ بعد اب عدالت کی مداخلت پر ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ میں سنگین انکشافات
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے کلسوم بائی والیکا اسپتال میں 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات ایسے وقت شروع کی گئی ہیں جب متاثرہ خاندان کئی ماہ سے احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا الزام ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں یہ واقعہ سامنے آنے کے باوجود حکام نے آزادانہ تحقیقات کا حکم نہیں دیا۔
سندھ ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد کارروائی
بالآخر متاثرہ خاندانوں نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جس کے بعد عدالت نے حکومت کو دو ہفتوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے اور انفیکشن کی اصل وجہ بتانے کا حکم دیا۔ عدالت میں دائر درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسپتال میں ایک بار استعمال ہونے والی سرنجوں کو دوبارہ استعمال کیا گیا، جس کے باعث 200 سے زائد بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے۔
نو بچوں کی موت کا بھی دعویٰ
متاثرہ بچوں کے اہل خانہ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ان میں سے نو بچوں کی موت ہو چکی ہے، تاہم حکام نے ابھی تک ان اعداد و شمار کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک بار استعمال ہونے والی سرنجوں کا دوبارہ استعمال مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ متعلقہ حکام نے نہ تو واقعے کی مناسب تحقیقات کرائیں اور نہ ہی متاثرہ بچوں کے علاج کے لیے مؤثر انتظامات کیے۔
پاکستان میں بچوں میں ایچ آئی وی کیسز
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان میں بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ دی ٹیلی گراف نے سندھ کے محکمہ صحت کے حوالے سے بتایا کہ رواں سال جنوری سے مارچ کے درمیان صوبے میں ایچ آئی وی کے 894 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 329 متاثرین بچے تھے۔
رتوڈیرو سانحہ کی تلخ یادیں پھر تازہ
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران صحت کی سہولیات سے جڑے ایچ آئی وی انفیکشن کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں 2019 میں سندھ کے رتوڈیرو میں پیش آنے والا بڑا ایچ آئی وی سانحہ نمایاں ہے، جہاں مبینہ طور پر آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے سیکڑوں بچے اس بیماری میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اس کے بعد عالمی ادارۂ صحت کی تحقیقات میں غیر محفوظ طریقے سے انجیکشن لگانے کو اس وبا کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق جون 2019 تک تقریباً تین لاکھ آبادی والے رتوڈیرو قصبے میں 800 سے زائد بچے ایچ آئی وی پازیٹو پائے گئے تھے۔ بعد میں کووڈ-19 وبا کے باعث یہ معاملہ عالمی توجہ سے اوجھل ہو گیا، تاہم اس کے بعد بھی ایچ آئی وی کے نئے کیسز سامنے آتے رہے۔
بھارت ایکسپریس۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…