قومی

Pahalgam Terror Attack:چار پاکستانی اور تین مقامی دہشت گردوں نے پہلگام میں کیاتھاحملہ، حملہ آوروں کا سکیچ جاری،وزیردفاع نے لیا سخت فیصلہ

کشمیر کی  خوبصورت وادی  پہلگام میں انسانیت کو شرمسار کردینے والی دہشت گردانہ حرکت نے پورے ملک اور عالمی برادری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ حملہ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں واقع پہلگام کے بائیسران علاقے میں پیش آیاتھا، جہاں دہشت گردوں نے سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس حملے میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر سیاح تھے، جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔ حملے کے فوراً بعد بھارتی فوج اور جموں و کشمیر پولیس نے مشترکہ طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور دہشت گردوں کی تلاش کے لیے ایک بڑا سرچ آپریشن شروع کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حملے کی سخت مذمت کی اور سعودی عرب کا دورہ مختصر کر کے واپس بھارت لوٹ آئے تاکہ صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔

چار پاکستانی اور تین کشمیری دہشت گرد

ادھر وزارت دفاع میں ایک اہم میٹنگ منعقد کی گئی ہے جس کی صدارت وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے کی ۔ اس میٹنگ میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال،سی ڈی ایس چیف، تینوں افواج کے سربراہان موجود تھے۔اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تینوں افواج کو الرٹ پر رکھا جائے اور لائن آف کنٹرول  پر اور کشمیر کے اندرونی علاقوں میں فوج کو الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ وہیں دوسری جانب جموں کشمیر پولیس نے دہشت گردوں کے سکیچز جاری کئے گئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق کل سات دہشت گرد تھے جن میں سے چار پاکستانی تھے اور یہ سب دراندازی کرکے کشمیر آئے تھے ،تین مقامی ملیٹنٹ تھے جو پولیس کی وردی میں تھے۔ دہشت گردانہ حملے میں شامل عادل گری، اور آصف شیخ  کی تصدیق ہوگئی ہے اور یہ دونوں پاکستانی ہیں ۔

سیکورٹی اقدامات اور جاری تحقیقات

حملے کے بعد کشمیر کی وادی میں سیکورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا۔ اہم تنصیبات، سیاحتی مقامات اور شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ گاڑیوں کی تلاشی اور چیکنگ کا عمل بھی تیز کر دیا گیا۔ ایک گمنام عسکری گروپ “کشمیر ریزسٹنس” نے سوشل میڈیا پر حملے کی ذمہ داری قبول کی اور اسے بھارت کی طرف سے “آبادیاتی تبدیلی” کے خلاف جوابی کارروائی قرار دیا۔ حکام اس گروپ کے دعوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا پتہ لگانے کے لیے آپریشن جاری ہے۔

سیاحت پر اثرات اور مستقبل کے خدشات

پہلگام، جو اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے “منی سوئٹزرلینڈ” کہلاتا ہے، سیاحوں کے لیے ایک اہم مقام ہے۔ 2024 میں تقریباً 35 لاکھ سیاحوں نے کشمیر کا رخ کیا تھا، لیکن اس حملے نے سیاحت کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ مقامی لوگوں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اگر سیکورٹی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو یہ خطہ اپنی معاشی ترقی سے محروم ہو سکتا ہے۔ تاہم، کچھ سیاحوں نے حملے کے باوجود کشمیر آنے کا عزم ظاہر کیا اور مقامی انتظامیہ سے تحفظ کی یقین دہانی مانگی۔ حکومت اب دہشت گردی کے خاتمے اور سیاحوں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے نئے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Asian Games 2026: سیمی فائنل میں پہنچی ٹیم انڈیا، موسلادھار بارش کے باعث افغانستان کے خلاف کوارٹر فائنل منسوخ

شریئس ائیر کی کپتانی میں بھارتی ٹیم اب یکم اکتوبر کو دوسرا سیمی فائنل مقابلہ…

1 hour ago

PM Modi Congratulates Indian Teams :چیس اولمپیاڈ میں سلور اور برونز میڈل جیتنے پر پی ایم مودی نے بھارتی ٹیم کو دی مبارکباد

میزبان ازبکستان نے آخری راؤنڈ میں یوکرین کو 2.5-1.5 سے شکست دے کر گولڈ میڈل…

3 hours ago