نئی دہلی: مرکزی حکومت کی اہم اسکیم ’پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا‘ نے ایک بڑا سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ حکومت نے منگل کو بتایا کہ دنیا کے سب سے بڑے گھریلو روف ٹاپ سولر پروگرام کے تحت اب تک 50.06 لاکھ سے زائد خاندان اس اسکیم سے مستفید ہو چکے ہیں۔ حکومت کے مطابق صرف دو برس کے مختصر عرصے میں یہ کامیابی حاصل ہونا ملک کے صاف توانائی مشن کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
روف ٹاپ سولر تنصیبات میں غیر معمولی اضافہ
وزارتِ نئی و قابلِ تجدید توانائی کے مطابق اس اسکیم کے آغاز سے قبل گزشتہ دس برسوں میں صرف 7.94 لاکھ روف ٹاپ سولر تنصیبات کی گئی تھیں، جبکہ پی ایم سوریہ گھر یوجنا نے صرف دو سال کے اندر اس سے کئی گنا زیادہ خاندانوں تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ حکومت نے بتایا کہ 75,021 کروڑ روپے کے بجٹ والی یہ اسکیم دنیا میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے صاف توانائی پروگراموں میں شامل ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت کے مطابق اس اسکیم کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت تقریباً ہر چھ دن میں ایک لاکھ خاندان اس سے جڑ رہے ہیں۔ گزشتہ نو ماہ کے دوران روف ٹاپ سولر تنصیبات کی رفتار میں بھی تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اکتوبر 2025 میں روزانہ اوسطاً 5,038 تنصیبات کی جا رہی تھیں، جو جولائی 2026 میں بڑھ کر 16,328 یومیہ تک پہنچ گئیں۔
جولائی 2026 سب سے کامیاب مہینہ
حکومت کے مطابق جولائی 2026 اس اسکیم کے لیے اب تک کا سب سے کامیاب مہینہ ثابت ہوا، جب صرف ایک ماہ میں 5.06 لاکھ خاندانوں نے اس کا فائدہ اٹھایا، جو کسی بھی ایک ماہ کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔ اسکیم کے تحت براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے اب تک 28,024 کروڑ روپے کی سبسڈی مستحقین کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جا چکی ہے، جس سے سولر سسٹم کی تنصیب کی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ حکومت کے مطابق اس اسکیم کے نتیجے میں تقریباً 19 لاکھ خاندانوں کا بجلی بل مکمل طور پر صفر ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ 12 لاکھ سے زائد خاندانوں نے اضافی بجلی قومی گرڈ کو فروخت کر کے مالی سال 2024-25 کے دوران مجموعی طور پر 421 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی، جس سے ہر خاندان کو اوسطاً 3,500 روپے سالانہ اضافی آمدنی ہوئی۔
کمزور طبقات اور روزگار پر خصوصی توجہ
حکومت نے بتایا کہ معاشی طور پر کمزور طبقات تک اس اسکیم کا فائدہ پہنچانے کے لیے پردھان منتری آواس یوجنا (پی ایم اے وائی)، بی پی ایل اور ایس سی/ایس ٹی خاندانوں کے لیے چار ریاستوں میں تقریباً 1.6 لاکھ سولر تنصیبات مکمل کی جا چکی ہیں، جبکہ اس ماڈل کو مزید 12 ریاستوں میں نافذ کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ وزارت کے مطابق یہ اسکیم صرف صاف توانائی کو فروغ نہیں دے رہی بلکہ روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہی ہے۔ اب تک 34,219 وینڈرز کا اندراج ہو چکا ہے، جن میں سے 29,469 فعال طور پر کام کر رہے ہیں، جبکہ مختلف تربیتی پروگراموں کے تحت 2.32 لاکھ سے زائد افراد کو تربیت دی جا چکی ہے۔ وزارت نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت اب تک مجموعی طور پر 14.8 گیگاواٹ روف ٹاپ سولر صلاحیت نصب کی جا چکی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک کو صاف توانائی کی سمت تیزی سے آگے بڑھانے، عام شہریوں کے بجلی کے اخراجات کم کرنے اور ان کی آمدنی میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…
سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…
مہاراشٹر کے ہنگولی شہر میں پیر کی رات ایک دردناک حادثہ پیش آیا۔ شہر کے…
تعلیمی سیشن 27-2026 سے RBSE کی 10ویں جماعت کے طلبہ کو سال میں دو مرتبہ…
موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…
لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…