وزیر اعظم نریندر مودی کی تیسری مدتِ حکومت کے پہلے سال کا سب سے نمایاں اور اثرانگیز کارنامہ ’’آپریشن سندور‘‘ ہے۔ ایک ایسا فوجی آپریشن جس نے بھارت کی دفاعی حکمت عملی، ٹیکنالوجی پر انحصار اور سفارتی ساکھ، تینوں کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ 7 مئی 2025 کی رات کو بھارت نے پہلگام دہشت گرد حملے (22 اپریل) کے جواب میں ’’آپریشن سندور‘‘ کا آغاز کیا اور محض 25 منٹ کے اندر بھارت نے پاکستان اور پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (PoK) میں نو دہشت گرد کیمپوں کو میزائل حملوں سے تباہ کر دیا، جس میں 100 سے زائد دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔
پاکستان نے اس کے بعد میزائل، ڈرون حملوں اور ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے بدلہ لینے کی کوشش کی، لیکن بھارت کے S-400 ایئر ڈیفنس سسٹمز اور ہائی الرٹ فورسز نے ہر اقدام کو ناکام بنا دیا۔ ایک پاکستانی انٹیلیجنس رپورٹ کے لیک ہونے سے معلوم ہوا کہ بھارت نے سات مزید اہداف مقرر کیے تھے، جس سے آپریشن کی وسعت اور گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔
دفاعی میدان میں بھی ’’میک ان انڈیا‘‘ کی دھوم
آپریشن سندور کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ یہ اعلیٰ درجے کی درستگی (Precision) کے ساتھ اور مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں سے انجام دیا گیا، جن میں براہموس سپرسانک کروز میزائل، آسترا ایئر ٹو ایئر میزائل اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی شامل تھیں، جو کہ سب سب بھارت میں تیار کیے گئے سسٹمز ہیں اور اب محض دفاعی ضرورت نہیں بلکہ اسٹریٹجک خودمختاری کا مظہر بن چکے ہیں۔ جس طرح ماضی میں بھارت بیرونی ہتھیاروں پر انحصار کرتا تھا، اب ویسا نہیں رہا۔ آپریشن سندور نے واضح کر دیا کہ بھارت نہ صرف دشمن کو خود اپنے وسائل سے جارحانہ طور پر جواب دے سکتا ہے۔
عالمی ساکھ میں آئی بہتری
اس آپریشن کے بعد بھارت کی عالمی سفارتی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔ چار ممالک کے حالیہ دورے پر گئی ایک آل پارٹی پارلیمانی وفد کی رکن، ریکھا شرما نے ANI سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’دنیا بھارت کو اب سنجیدگی سے لیتی ہے اور بھارت کے اقدامات کو مثبت نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔‘‘ عالمی مبصرین نے بھارت کی ذمہ دارانہ فوجی کارروائی کی تعریف کی، کیونکہ یہ کارروائی غیر ضروری جنگ چھیڑے بغیر کی گئی، اور دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن پیغام دیا گیا۔
قوم پرستی اور پاپ کلچر کا سنگم
آپریشن سندور نے صرف فوجی اور سفارتی میدان میں ہی نہیں، بلکہ عوامی سطح پر بھی گہرا اثر چھوڑا۔ آئی پی ایل 2025 کے فائنل کے دوران معروف گلوکار شنکر مہادیون نے ’’سنو غور سے دنیا والو‘‘ گانا آپریشن سندور کے ہیروز کو خراجِ تحسین کے طور پر پیش کیا، جسے لاکھوں ناظرین نے جذباتی انداز میں سراہا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپریشن سندور صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ قومی جذبے کا استعارہ بن چکا ہے۔
وِکست بھارت کی راہ میں ایک فیصلہ کن قدم
’’آپریشن سندور‘‘ کو اگر ایک وسیع پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ مودی 3.0 کے ’’وِکست بھارت‘‘ کے وژن کا عملی مظاہرہ ہے۔ یہ وژن صرف معیشت یا ترقی پر مبنی نہیں بلکہ ایک مضبوط، خود کفیل اور فیصلہ کن بھارت کی تعمیر پر بھی مرکوز ہے۔ Business Standard کے مطابق آپریشن سندور دفاعی جدید کاری، مقامی تیاری اور ٹیکنالوجی پر انحصار اور علاقائی موجودگی کی عکاسی کرتا ہے۔
آپریشن سندور نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب بھارت خود پر انحصار کرنے والا ہے ملک اور کسی بھی خطرے کا بروقت، سخت اور درست جواب دے سکتا ہے۔ ساتھ ہی حملے کے باوجود عالمی سطح پر اپنا وقار برقرار رکھ سکتا ہے۔ لہٰذا مودی 3.0 کے پہلے سال کی بڑی کامیابی واضح طور پر آپریشن سندور ہے، جو کہ طاقت کے ساتھ تدبیر اور تدبیر کے ساتھ وقار سے عبارت ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…