بھارت اور پاکستان کے درمیان ہر عسکری تصادم میں پاکستان کے ناپاک عزائم دنیا کے سامنے بے نقاب ہوئے ہیں اور اسے ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 1947 سے لے کر کارگل جنگ 1999 تک، پاکستان کے ہر حملے نے نہ صرف ناکامی بلکہ خود اس کے قومی وقار کو نقصان پہنچایا۔ اب 2025 کی کشیدگی نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارت کی حکمت عملی میں ایک بنیادی اور فیصلہ کن تبدیلی آ چکی ہے۔
پہلگام دہشت گرد حملہ اور بھارت کا زبردست جواب
22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے نے ایک بار پھر پاکستان کے دہشت گرد نیٹ ورک اور فوجی اداروں کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا۔ اس حملے کے ردعمل میں، بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب کو “آپریشن سندور” کے تحت نو دہشت گرد کیمپوں کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنایا، جس میں 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ان میں لشکر طیبہ کے سربراہ یوسف اظہر اور ابو جندال جیسے بدنام دہشت گرد شامل تھے۔ یہ 1971 کے بعد پہلا موقع تھا جب بھارت نے بین الاقوامی سرحد پار فضائی حملے کیے، جو بھارت کی جوابی پالیسی میں ایک تاریخی تبدیلی کا اعلان تھا۔
فضائی جنگ کا نیا باب: جنگِ عظیم دوم کے بعد سب سے بڑی فضائی جھڑپ
اس کارروائی کے دوران بھارتی فضائیہ (IAF) کے 70 سے زائد اور پاکستانی فضائیہ (PAF) کے تقریباً 50 جنگی طیارے آمنے سامنے آئے، جو ممکنہ طور پر دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑی فضائی جھڑپ تھی۔
پاکستان کی جوابی کارروائی اور بھارت کا ناقابل تسخیر دفاعی نظام
پاکستان نے 26 بھارتی شہروں اور دفاعی تنصیبات کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی، مگر بھارت کے کثیر سطحی دفاعی نظام نے ان حملوں کو ناکام بنا دیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب بھارت کے دیسی ساختہ میزائل، ڈرون، جیممرز، ریڈارز اور سیٹلائٹس چینی نظاموں کے خلاف کامیابی سے استعمال ہوئے۔ بھارت نے جوابی حملوں میں پاکستان کے کلیدی فضائی اڈوں—نور خان، سیالکوٹ، کراچی، سرگودھا، اور جیکب آباد—کو نشانہ بنایا، جو پاکستان کی جوہری تنصیبات سے جُڑے ہوئے تھے۔ اس حملے نے پاکستان کو بھاری نقصان پہنچایا۔
“آپریشن بنیان المرصوص” کی ناکامی اور جنگ بندی کی اپیل
10 مئی کو پاکستان نے “آپریشن بنیان المرصوص” کے تحت بھارت کے 16 فضائی اڈوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، مگر اسے کوئی خاص کامیابی نہ ملی۔ اس دوران لائن آف کنٹرول (LoC) پر شدید فائرنگ اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال ہوا۔ بالآخر، اسی روز پاکستان نے جنگ بندی کی درخواست کی، جو فوری طور پر نافذ کر دی گئی۔
اسٹریٹیجک نتائج اور اہم پیغامات
1۔ پاکستان کی “کم لاگت والی پراکسی وار” کی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ہوئی، اور یہ ثابت ہوا کہ جوابی کارروائی کے کئی درجے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے پہلے موجود ہیں۔
2۔ پاکستان کے چینی و ترک دفاعی نظام بھارت کی جدید، دیسی اور مربوط ٹیکنالوجی کے سامنے بے بس ثابت ہوئے۔
3۔ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں سہولت کاری کی کوشش کی، مگر بھارت نے واضح کیا کہ یہ کسی تیسرے فریق کی ثالثی نہیں تھی۔
تبوک میں طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کے بعد کیپٹن اسمت مچھار کو فوری طبی امداد…
الہ آباد ہائی کورٹ نے شواٹس کے اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کی بقایا تنخواہوں…
نارتھمپٹن شائر اور ہندوستانی ٹیم کے اسٹار لیگ اسپنر یوزویندر چہل نے ریڈ بال کرکٹ…
نُسرت بھروچا کے فلمی کیریئر پر نظر ڈالیں تو انہوں نے ’پیار کا پنچ نامہ‘…
اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران ایسی سرگرمیوں کو…
شاستری جینتی پر پی ایم مودی نے لال بہادر شاستری کو خراج عقیدت پیش کرتے…