نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے 2024 کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی تیسری مدت کار (مودی 3.0) کا ایک سال مکمل کر لیا ہے۔ اس ایک سال کے دوران، مودی حکومت نے ملک کی ترقی، سلامتی، اور عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو مضبوط کرنے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔ بزنس اسٹینڈرڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس عرصے میں “آپریشن سندور” اور “وکست بھارت” (ترقی یافتہ بھارت) جیسے منصوبوں نے مرکزی توجہ حاصل کی ہے، جو مودی 3.0 کے ویژن کی عکاسی کرتے ہیں۔
آپریشن سندور: سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ
آپریشن سندور، جو کہ سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط حکمت عملی کے طور پر شروع کیا گیا، مودی 3.0 کے عسکری اور اسٹریٹجک ایجنڈے کا اہم حصہ رہا ہے۔ اس آپریشن کا مقصد بھارت کی شمالی اور مغربی سرحدوں پر سیکیورٹی کو مضبوط کرنا اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنا ہے۔ خاص طور پر جموں و کشمیر اور لداخ جیسے حساس علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے تحت، ڈرون ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، اور نگرانی کے جدید نظاموں کو سرحدی علاقوں میں متعارف کرایا گیا تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں اور دراندازی کو روکا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق، آپریشن سندور نے نہ صرف سرحدی سلامتی کو بہتر بنایا بلکہ مقامی آبادی کے ساتھ تعلقات کو بھی مضبوط کیا۔ جموں و کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے، جیسے کہ سڑکوں کی تعمیر، اسکولوں کی تجدید، اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے پروگراموں نے، حکومت نے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا۔ اس کے علاوہ، مقامی نوجوانوں کو سیکیورٹی فورسز میں شامل کرنے اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے ان کی صلاحیتوں کو بڑھانے پر بھی توجہ دی گئی۔
وکست بھارت: ترقی کا عظیم منصوبہ
مودی 3.0 کا سب سے بڑا وژن “وکست بھارت” ہے، جس کا مقصد 2047 تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ معیشت بنانا ہے۔ اس ویژن کے تحت، حکومت نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ڈیجیٹل تبدیلی، اور پائیدار ترقی پر خصوصی توجہ دی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں، بھارت نے متعدد میگا پروجیکٹس شروع کیے، جن میں نئی ریلوے لائنوں کی توسیع، ہائی ویز کی تعمیر، اور اسمارٹ سٹیز کے منصوبوں کی تکمیل شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت کی معیشت نے اس عرصے میں 7.5 فیصد سے زیادہ کی شرح نمو حاصل کی، جو کہ عالمی معاشی سست روی کے باوجود ایک قابل ذکر کامیابی ہے۔ اس کے پیچھے حکومت کی “میک ان انڈیا” اور “آتم نربھر بھارت” (خود انحصار بھارت) جیسی پالیسیوں کا اہم کردار رہا ہے۔ مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے، الیکٹرانکس، قابل تجدید توانائی، اور دفاع جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کو بڑھایا گیا۔ اس کے نتیجے میں، بھارت نہ صرف عالمی سپلائی چین کا حصہ بنا بلکہ کئی شعبوں میں خود کفالت کی طرف بھی بڑھا۔
چیلنجز اور تنقید
اگرچہ مودی 3.0 نے کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن اسے کئی چیلنجز کا بھی سامنا رہا۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ترقی کے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے اور دیہی علاقوں میں غربت اور بے روزگاری کے مسائل کو نظر انداز کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام شہریوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت نے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے سبسڈیز اور سماجی بہبود کے پروگراموں کو بڑھایا، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کی رفتار سست ہے۔
عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ
مودی 3.0 نے عالمی سطح پر بھارت کی پوزیشن کو مزید مضبوط کیا۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت نے G20 سربراہی اجلاس میں اہم کردار ادا کیا اور عالمی مسائل جیسے کہ موسمیاتی تبدیلی، ڈیجیٹل گورننس، اور عالمی صحت کے حوالے سے اپنی قائدانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ مودی کی خارجہ پالیسی نے بھارت کو ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کیا، خاص طور پر مغربی ممالک اور ایشیائی ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے میں۔مودی 3.0 کا پہلا سال ایک متحرک اور چیلنجنگ سفر رہا ہے۔ آپریشن سندور نے سرحدی سلامتی کو مضبوط کیا، جبکہ وکست بھارت ویژن نے ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔ اگرچہ کامیابیوں کے ساتھ تنقید بھی سامنے آئی، لیکن مودی حکومت کا عزم واضح ہے کہ وہ بھارت کو 2047 تک ایک ترقی یافتہ قوم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ اگلے چند سال اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ ویژن کس حد تک حقیقت بنتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
وزیر اعظم مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کی 138ویں…
پپو یادو نے کہا کہ سیلاب جیسی سنگین صورتحال میں انتظامیہ کی ذمہ داری ہے…
اکھلیش نے کہا کہ فارم-7 کے ذریعے گاؤں گاؤں اپوزیشن ووٹروں کے نام حذف کرانے…
وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر جاری بھارتیہ جنتا پارٹی کے ’سیوا…
زیرِ تعمیر سڑک کے معائنے کے دوران وزیر پرویش ورما اور آپ رکنِ اسمبلی جرنیل…
نیپال میں 24 ستمبر سے ملک کے کئی حصوں میں مسلسل بارش ہو رہی ہے،…