فائل فوٹو۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ایک تازہ بیان نے ملک کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ عام طور پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) اور بی جے پی کی پالیسیوں کے کھلے ناقد سمجھے جانے والے عمر عبداللہ اس بار آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے موقف سے مکمل طور پر متفق نظر آئے۔ موہن بھاگوت کی جانب سے نوجوانوں یعنی Gen-Z کے حالیہ احتجاجی مظاہروں کی حمایت کیے جانے کے بعد عمر عبداللہ نے ان کی کھل کر تعریف کی اور کہا کہ آر ایس ایس سربراہ نے ”سچ کے علاوہ کچھ نہیں کہا“۔
موہن بھاگوت نے کیا کہا تھا؟
ممبئی میں منعقدہ IIMUN کے ایک پروگرام میں آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے نوجوانوں یعنی Gen-Z کے احتجاجی مظاہروں پر کھل کر اپنی رائے ظاہر کی۔ انہوں نے جون اور جولائی میں نیٹ (NEET) پیپر لیک معاملے اور تعلیمی نظام کی خامیوں کو لے کر ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کئی اہم باتیں کہیں۔
احتجاج کرنے والے ملک مخالف نہیں
موہن بھاگوت نے کہا کہ حالیہ احتجاج میں نوجوانوں کی شکایات پوری طرح جائز تھیں۔ اگر نوجوان اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کر رہے ہیں تو انہیں ملک مخالف نہیں کہا جا سکتا۔ وہ ہمارے اپنے نوجوان اور ملک کی اگلی نسل ہیں۔
مکالمے اور بحث کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ آج کی نسل منطقی اور معقول جواب چاہتی ہے۔ جمہوریت میں احتجاج اور بحث و مباحثہ یعنی ’شاستھارتھ‘ اتفاقِ رائے پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
اصلاح کے لیے احتجاج ضروری
موہن بھاگوت کے مطابق نوجوان صرف احتجاج کرنے کے لیے آواز نہیں اٹھا رہے بلکہ کچھ مسائل کی وجہ سے اپنی بات سامنے رکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ نظام میں اصلاح کے لیے ہونا چاہیے۔
عمر عبداللہ کا بڑا بیان
موہن بھاگوت کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ آر ایس ایس سربراہ کا بیان بالکل سچ اور آنکھیں کھول دینے والا ہے۔ عمر عبداللہ کے مطابق موہن بھاگوت نے آخرکار یہ تسلیم کر لیا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنا ملک کے خلاف جانا نہیں ہوتا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جمہوریت میں تعمیری تنقید انتہائی ضروری ہے۔ اس سے حکومت کی جواب دہی یقینی ہوتی ہے اور جمہوری نظام مضبوط ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موہن بھاگوت کے اس اعتراف کے بعد اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جانے چاہئیں۔ ان کے مبینہ استحصال اور سوشل میڈیا پر ڈیجیٹل ٹرولنگ کو بھی فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔
سیاسی منظرنامے میں نئے معنی
عمر عبداللہ کا موہن بھاگوت کے موقف کی حمایت کرنا اس بات کی جانب اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ نوجوانوں، تعلیمی نظام اور جمہوری حقوق جیسے مسائل پر سیاسی و نظریاتی اختلافات کے باوجود کچھ نکات پر اتفاق رائے بنتا دکھائی دے رہا ہے۔اپوزیشن طویل عرصے سے الزام لگاتا رہا ہے کہ حکومت کی مخالفت کرنے والے نوجوانوں کو ’ملک دشمن‘ قرار دیا جاتا ہے۔ ایسے میں موہن بھاگوت کے بیان اور عمر عبداللہ کی حمایت نے اس معاملے پر مرکز کی حکومت پر سیاسی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…
وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…