اڈیشہ کے ساحلی علاقوں میں ہر سال لاکھوں اولیو رڈلے کچھوے انڈے دینے کے لیے پہنچتے ہیں۔ ان نایاب سمندری جانداروں کے تحفظ اور ان کی نقل و حرکت کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے جاری ایک اہم سائنسی تحقیق کی پہلی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ رپورٹ میں اولیو رڈلے کچھوؤں کے طویل سمندری سفر اور رویّوں سے متعلق کئی اہم معلومات سامنے آئی ہیں، جبکہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اڈانی فاؤنڈیشن اور دھامرا پورٹ کے تعاون کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اڈیشہ حکومت کے جنگلات، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مملکت گنیش رام سنگھ کھونٹیا نے بھارتی وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ (WII) کے تین سالہ تحقیقی منصوبے کے پہلے سال کی رپورٹ جاری کی۔ یہ مطالعہ اڈیشہ وائلڈ لائف آرگنائزیشن، محکمہ جنگلات، دھامرا پورٹ کمپنی لمیٹڈ (DPCL) اور اڈانی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے کیا جارہا ہے۔
10 کچھوؤں کی سیٹلائٹ کے ذریعے نگرانی، ہزاروں کلومیٹر کا سفر ریکارڈ
رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ ٹیلی میٹری کے ذریعے 10 اولیو رڈلے کچھوؤں کی مجموعی طور پر 1,748 دن تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق میں سامنے آیا کہ نر اور مادہ کچھوؤں کے سمندری سفر کے انداز ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایک مادہ کچھوے نے صرف 271 دن میں 6,719 کلومیٹر کا سفر طے کیا اور سری لنکا کے مشرقی سمندری علاقے تک پہنچی۔ وہیں ایک دوسرے کچھوے نے گاہیرماتھا سے رُشیکُلّیا تک تقریباً 200 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد واپسی کی۔
رہائش گاہوں کی شناخت میں ملی اہم مدد
2025-26 کے نیسٹنگ سیزن کے دوران کشتیوں کے ذریعے کیے گئے سروے میں 1,390 کچھوؤں اور 67 افزائشِ نسل کرنے والے جوڑوں کو ریکارڈ کیا گیا۔ زیادہ تر کچھوے ساحل سے دو کلومیٹر کے اندر پائے گئے، جس سے ان کی اہم رہائش گاہوں کی شناخت میں مدد ملی۔ WII کے سینئر سائنسداں ڈاکٹر آر سریش کمار نے کہا کہ تقریباً 15 سال بعد اڈیشہ میں اولیو رڈلے کچھوؤں کی سیٹلائٹ ٹریکنگ دوبارہ شروع کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اڈیشہ محکمہ جنگلات، دھامرا پورٹ اور اڈانی فاؤنڈیشن کے تعاون سے سائنس دانوں کو کچھوؤں کی نقل و حرکت اور رہائش گاہوں کے استعمال سے متعلق اہم معلومات حاصل کرنے میں مدد ملی ہے، جو مستقبل کی تحفظاتی پالیسیوں کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔
پریتی اڈانی نے اڈیشہ حکومت کے اقدامات کو سراہا
اڈانی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کہا کہ اولیو رڈلے کچھوے اڈیشہ کے قدرتی ورثے کا اہم حصہ ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے ان کے حیاتیاتی چکر کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی کی قیادت میں ریاستی حکومت کی جانب سے ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کو دی جانے والی ترجیح کو سراہا۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات سائنسی تحقیق اور تحفظاتی سرگرمیوں کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
گاہیرماتھا اور رُشیکُلّیا بڑے نیسٹنگ زون
اڈیشہ دنیا کے سب سے بڑے اولیو رڈلے نیسٹنگ علاقوں میں شامل ہے۔ کیندرپاڑہ کا گاہیرماتھا اور گنجام کا رُشیکُلّیا سمندری کچھوؤں کے اجتماعی طور پر انڈے دینے والے اہم ساحلی علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اولیو رڈلے کچھوؤں کو وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 1972 کے تحت اعلیٰ ترین قانونی تحفظ حاصل ہے۔
مزید دو سال جاری رہے گی تحقیق
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کچھوؤں کی نقل و حرکت، خوراک تلاش کرنے والے علاقوں اور ان کے نیسٹنگ مقامات کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے تحت اگلے دو برس تک ان کی نگرانی اور سائنسی مطالعہ جاری رکھا جائے گا۔ اڈیشہ میں اڈانی فاؤنڈیشن گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے مختلف سماجی اور کمیونٹی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ اولیو رڈلے تحقیق میں اس کا تعاون سمندری حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق کوششوں کا حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق سائنسی تحقیق، حکومتی تعاون اور ادارہ جاتی شراکت داری کے ذریعے ہی ایسے حساس سمندری جانداروں کا طویل مدتی تحفظ مؤثر انداز میں یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
گزشتہ ماہ عمان کے مشرقی ساحل کے قریب تجارتی جہاز ایم وی کیپ ڈیو پر…
مقامی لوگوں کو شبہ تھا کہ یہ نوجوان علاقے میں ہونے والی گائے چوری کی…
پولیس کے مطابق، 2 اکتوبر کو شام 4 بجے سے 7 بجے کے درمیان شیواجی…
اجلاس کے دوران ریاستی حکومت اور مقامی عوامی نمائندوں کی فعال شمولیت پر بھی تفصیلی…
مئی میں دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی…
سوامی پرساد موریہ نے کہا کہ قومی سطح پر کانگریس ہی ایک متبادل ہے، اسی…