قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر برازیل میں ہونے والے برکس وزرائے خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیروں کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں اعلیٰ حکام اس اہم بین الاقوامی فورم سے غیر حاضر رہیں گے۔ برکس گروپ، جو کہ پانچ بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں پر مشتمل ہے، عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے کام کرتا ہے۔ اس اجلاس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کرنا تھا۔ تاہم، بھارت کی جانب سے اس فیصلے کی کوئی سرکاری وجہ سامنے نہیں آئی۔
برکس تنظیم میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، اور یہ گروپ عالمی معاشی ڈھانچے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے اجلاس عام طور پر رکن ممالک کے لیے اپنے موقف کو واضح کرنے اور باہمی مفادات پر تبادلہ خیال کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اجیت دوول اور جے شنکر کی غیر موجودگی سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا بھارت کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا یہ فیصلہ کسی مخصوص حالات کا نتیجہ ہے۔ بھارت روایتی طور پر برکس کے اندر ایک فعال رکن رہا ہے، اور اس کی قیادت نے ہمیشہ اس فورم کو اہمیت دی ہے۔ لیکن اس بار ان کی عدم شرکت حیران کن ہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ اجیت دوول بھارت کے قومی سلامتی کے اہم ستون سمجھے جاتے ہیں اور انہوں نے متعدد مواقع پر عالمی فورمز میں بھارت کا موقف پیش کیا ہے۔ اسی طرح، ایس جے شنکر بھارت کی خارجہ پالیسی کو نئی جہت دینے میں سرگرم رہے ہیں۔ ان دونوں کی غیر موجودگی سے برکس اجلاس میں بھارت کی نمائندگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا یہ فیصلہ اندرونی مصروفیات کی وجہ سے ہے یا کوئی سفارتی حکمت عملی اس کے پیچھے کارفرما ہے، اس بارے میں ابھی کچھ واضح نہیں ہے۔ بھارتی دفتر خارجہ نے بھی اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
برکس کا یہ اجلاس برازیل کی میزبانی میں منعقد ہو رہا ہے، اور اس میں عالمی معاشی چیلنجز، تجارت، اور سلامتی جیسے موضوعات پر بات چیت متوقع ہے۔ بھارت کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اور وہ برکس کے اندر ایک اہم کھلاڑی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ماضی میں بھارت نے اس پلیٹ فارم کو مغربی تسلط کے مقابلے میں اپنی آواز بلند کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ لیکن اس بار اعلیٰ حکام کی غیر موجودگی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بھارت کی ترجیحات میں شاید کوئی تبدیلی آئی ہو۔ دوسرے رکن ممالک اس فیصلے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
بھارت کی جانب سے برکس اجلاس میں اعلیٰ سطح پر عدم شرکت ایک غیر معمولی قدم ہے۔ اس سے نہ صرف بھارت کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے بلکہ برکس کے اندر اس کی پوزیشن پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ عالمی سیاست میں بھارت ایک متوازن کردار ادا کرتا رہا ہے، لیکن اس طرح کے فیصلوں سے اس کی سفارتی حکمت عملی پر بحث چھڑ سکتی ہے۔ فی الحال، مبصرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا یہ ایک عارضی فیصلہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی طویل مدتی منصوبہ بندی ہے۔ بھارتی عوام اور بین الاقوامی برادری دونوں ہی اس کے اثرات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت منڈپم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشوک سنگھل…
ہندوستان نے وراٹ کوہلی اور کپتان شبھمن گل کی شاندار سنچریوں کی بدولت اتوار کو…
گجرات کے کچھ میں واقع کھاوڑا رینیوایبل انرجی پارک کو ملا الگ پن کوڈ اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو کانگریس پر حملہ تیز کرتے ہوئے سابق…
سابق IAS افسر نے ایکس پر کئی امکانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا - ’بچے…
جسٹس سنجیو نرولا کی سربراہی والی بنچ نے ایک معاملے میں کہا کہ ذاتی قانون…