قومی

Centenary issue of Kalyan magazine: ’’منافع کیلئے نہیں، نسلوں کی تعمیر کیلئے ہورہا ہے کام‘‘ گیتا پریس کی خدمات کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا خراج تحسین

رشی کیش (اتراکھنڈ): مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کے روز گیتا پریس اور اس کے ماہنامہ رسالے ’کلیان‘ کو سناتن دھرم اور بھارتی ثقافت کا مضبوط ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ منافع کمانے کے لیے نہیں بلکہ نسلوں کی فکری و اخلاقی تشکیل کے مقصد سے کام کر رہا ہے۔ رشی کیش کے گیتا بھون میں منعقدہ تقریب میں کلیان رسالے کے سوویں شمارے کی رسمِ اجرا انجام دی گئی۔ اس موقع پر امت شاہ کے ساتھ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی بھی موجود تھے۔ تقریب میں سنتوں، دانشوروں اور گیتا پریس کے کارکنان کی بڑی تعداد شریک رہی۔

گیتا پریس سے ناواقف کوئی نہیں ہو سکتا

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا: ’’جو بھی سناتن دھرم سے محبت رکھتا ہے، یا بھارتی تہذیب کو دنیا کے مسائل کا حل سمجھتا ہے، وہ گیتا پریس سے ناواقف نہیں ہو سکتا۔ اس مقدس موقع پر مجھے مدعو کرنے پر میں گیتا پریس کا دل سے شکر گزار ہوں۔‘‘ مرکزی وزیر داخلہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ گیتا پریس کی بنیاد خدمت اور نظریے پر ہے، نہ کہ کاروبار پر۔ انہوں نے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’’جب کسی نے اشاعتوں کے اعداد و شمار دیکھ کر منافع کا حساب لگانا شروع کیا تو میں نے کہا کہ یہ پریس منافع کے لیے نہیں بلکہ نسلوں کی تعمیر کے لیے چلتا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ گیتا پریس نے آج تک حکومت سے کسی قسم کی مدد طلب نہیں کی، جو اس کی خودداری اور نظریاتی استقامت کی علامت ہے۔

مہاتما گاندھی کی نصیحت اور صفر اشتہارات کی روایت

امت شاہ نے یاد دلایا کہ مہاتما گاندھی نے کلیان کے منتظمین کو یہ مشورہ دیا تھا کہ روحانی رسائل کو بازار کے دباؤ سے آزاد رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کلیان رسالہ دنیا کا شاید واحد رسالہ ہے جو سو برسوں سے بغیر کسی اشتہار کے شائع ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق: ’’جو کتابیں ہزاروں روپے میں فروخت ہونی چاہئیں، گیتا پریس انہیں 50 سے 100 روپے میں عام لوگوں تک پہنچا رہا ہے۔ یہ ایک بے مثال خدمت ہے۔‘‘  امت شاہ نے گیتا پریس کے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ اس روحانی ماحول کو برقرار رکھیں تاکہ آنے والے وقت میں کلیان رسالے کا دو سوواں شمارہ بھی اسی پاکیزگی کے ساتھ شائع ہو سکے۔

اتراکھنڈ میں گیتا شلوکوں کی لازمی تعلیم

اس موقع پر وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا کہ اتراکھنڈ کے تمام اسکولوں میں گیتا کے شلوکوں کی لازمی تعلیم نئی نسل کو اپنی ثقافتی جڑوں سے جوڑنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبل انجن والی سرکار سناتن اقدار اور روایات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔ پشکر سنگھ دھامی نے مزید کہا کہ رشی کیش اب صرف ایک مذہبی مقام نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر ’یوگا کی عالمی راجدھانی‘ کے طور پر اپنی شناخت قائم کر رہا ہے، جہاں روایت اور ترقی ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

8 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

8 hours ago