قومی

نسیم عارفی اردو میڈیا ایوارڈز کے دوسرے ایڈیشن کے لیے نامزدگیاں طلب، آخری تاریخ 25 اپریل

حیدرآباد: سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن نے ملک بھر کے اردو صحافیوں سے ’نسیم عارفی اردو میڈیا ایوارڈز‘ کے دوسرے ایڈیشن کے لیے نامزدگیاں طلب کی ہیں۔ یہ اعزاز مرحوم نسیم عارفی کی یاد میں قائم کیا گیا ہے، جنہوں نے پانچ دہائیوں سے زائد عرصہ اردو صحافت کی خدمت میں صرف کیا اور اسے ایک نئی جہت عطا کی۔

ایک عظیم ورثے کا احترام

یہ ایوارڈز صرف ایک رسمی اعزاز نہیں، بلکہ اُس تحریک کا نام ہے جو اردو صحافت کے فروغ اور اس میں نئی آوازوں کو ابھارنے کے لیے وقف ہے۔ پچھلے سال کے پہلے ایڈیشن کی شاندار کامیابی کے بعد، اب اس سلسلے کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ پروفیسر سید بشارت علی، چیئرمین اور بانی منیجنگ ٹرسٹی، کے مطابق اس بار بھی ملک بھر کے صحافیوں کو کل پانچ ایوارڈز دیے جائیں گے، جن میں سے دو تلنگانہ اور دو دیگر ریاستوں کے لیے مختص ہوں گے۔

نامزدگی کی تفصیلات اور اہم تاریخیں

• آخری تاریخ: 25 اپریل 2026

• درخواست کا طریقہ: 500-800 الفاظ کا ذاتی بیان، تازہ ریزومے اور 2025 میں شائع ہونے والے کم از کم تین کاموں کے نمونے ای میل پر ارسال کریں۔

• ای میل پتے: admin@cetigroup.org اور cetifoundations@gmail.com

• خصوصی ایوارڈ: ایک سینئر صحافی یا میڈیا شخصیت کو ’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘ دے کر نوازا جائے گا۔

انعامات اور مراعات

ہر ایوارڈ یافتہ کو 15,000 روپے کا نقد انعام اور ایک توصیفی سند دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، منتخب امیدواروں کو حیدرآباد آنے اور واپس جانے کا ہوائی کرایہ اور قیام کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

کون درخواست دے سکتا ہے؟

یہ ایوارڈز صرف مرکزی دھارے کے صحافیوں کے لیے ہی نہیں، بلکہ ان تمام افراد کے لیے کھلے ہیں جو اردو میڈیا میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں:

• وہ صحافی اور میڈیا پروفیشنلز جو رائے عامہ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

• سوشل میڈیا پر سرگرم افراد جو غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

• تحقیقاتی رپورٹنگ، ڈیٹا جرنلزم، فیچر نگاری اور ملٹی میڈیا کہانی سنانے والے تخلیق کار۔

• وہ بلاگرز اور محققین جو پسماندہ مسائل کو اجاگر کرتے ہیں۔

کون تھے نسیم عارفی؟

نسیم عارفی کا نام اردو صحافت کے سنہری دور کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ’روزنامہ رہنمائے دکن‘ سے کیا، پھر ’سیاست‘ میں بطور اداریہ نگار خدمات انجام دیں۔ انہیں روزنامہ ’منصف‘ کی نئی صورت گری کا سہرا جاتا ہے، جہاں انہوں نے تخلیقی سرخیوں اور سپلیمنٹس کے ذریعے اردو صحافت کو نیا رخ دیا۔ بعد ازاں، انہوں نے ’روزنامہ اعتماد‘ کی بنیاد رکھی اور اسے عوام کا مقبول ذریعہ ابلاغ بنایا۔ وہ صرف ایک صحافی نہیں، بلکہ ایک بصیرت افروز شخصیت تھے جو اردو صحافت کو دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں کے ہم پلہ دیکھنا چاہتے تھے۔

سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن: تبدیلی کا محرک

یہ اعزازات حیدرآباد کی معروف رضاکارانہ تنظیم ’سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے دیے جا رہے ہیں، جو 1980 میں قائم ہوئی اور تعلیم، سماجی بااختیاری اور ثقافتی ترقی کے لیے کام کرتی ہے۔ فاؤنڈیشن کا ماننا ہے کہ مالی رکاوٹیں کبھی بھی صلاحیتوں کی راہ میں حائل نہیں ہونی چاہئیں، اسی لیے اس کے تمام پروگرام کفالت شدہ ہوتے ہیں۔

شفاف انتخاب کا عمل

ایوارڈز کے لیے امیدواروں کا انتخاب ایک خودمختار پینل کے ذریعے کیا جائے گا، جس میں ممتاز صحافی، اساتذۂ صحافت اور ماہرین شامل ہوں گے۔ یہ پینل طے شدہ معیارات کی بنیاد پر امیدواروں کا انتخاب کرے گا، جس سے عمل میں شفافیت اور دیانتداری کو یقینی بنایا جائے گا۔

تیاریاں عروج پر

ذرائع کے مطابق، سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن نے 11 اپریل 2026 کو حیدرآباد میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں ایوارڈز کے شیڈول کو حتمی شکل دی گئی۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر اوصاف سعید (سابق سفیر)، اے کے خان (ریٹائرڈ آئی پی ایس)، قربان علی (ممتاز صحافی) اور دیگر قابل ذکر شخصیات نے شرکت کی۔ متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ باوقار تقریب مئی 2026 کے پہلے ہفتے میں منعقد کی جائے گی۔

مدیران سے خصوصی اپیل

فاؤنڈیشن نے اردو اخبارات اور میڈیا اداروں کے مدیران سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنی ٹیموں کے دو یا تین اہل اور باصلاحیت افراد کو نامزد کریں۔ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ہنر مند صحافیوں تک یہ اعزاز پہنچے اور ان کی محنت کو صحیح پذیرائی مل سکے۔

یہ کیوں اہم ہے؟

پچھلے سال کے پہلے ایڈیشن میں جہاں قربان علی جیسے سینئر صحافی کو ’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘ دیا گیا تھا، وہیں نوجوان فیکٹ چیکر محمد زکریا (بہار) اور رشدہ شاہین (دہلی) جیسی ابھرتی ہوئی آوازوں کو بھی ان کے معیاری کام پر سراہا گیا تھا۔ یہ ایوارڈز اس بات کی علامت ہیں کہ اردو صحافت میں تنوع، جدت اور سچائی کو ہمیشہ سراہا جائے گا۔

چیلنجز کا ازالہ

اردو صحافت آج جہاں چیلنجز سے دوچار ہے، وہیں ’نسیم عارفی اردو میڈیا ایوارڈز‘ جیسے اقدامات اسے نئی زندگی بخشتے ہیں۔ یہ صرف ایک ایوارڈ نہیں، بلکہ ایک عہد ہے کہ اردو کا قلم کبھی خاموش نہیں ہوگا، اور سچائی کی آواز بلند رہے گی۔ تمام اہل صحافیوں اور مواد تخلیق کرنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور 25 اپریل 2026 سے پہلے اپنی درخواستیں جمع کروائیں۔

مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں: 9948008817

بھارت ایکسپریس اردو۔

Dr. Khalid Raza Khan

Recent Posts

JNU Students on Indefinite Hunger Strike: جے این یو میں طلبہ کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال، یہ ہیں اہم مطالبات

طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…

20 minutes ago

Jantar Mantar Protest: جنتر منتر پر اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی سخت، دفعہ 163نافذ

سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…

59 minutes ago

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

11 hours ago

British Airways Emergency: برٹش ایئرویز کی پرواز میں اچانک ایمرجنسی، 37 ہزار سے 9 ہزار فٹ تک نیچے آیا بوئنگ 777، لندن ڈائیورٹ

لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…

11 hours ago