نوئیڈا: اتر پردیش کے صنعتی شہر نوئیڈا کے سیکٹر 56 میں واقع اتراکھنڈ پبلک اسکول ایک بار پھر شدید تنازعہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اسکول کی تعلیمی منظوری منسوخ ہونے کے بعد اب نوئیڈا اتھارٹی نے ادارے کو الاٹ کی گئی زمین واپس لینے کی تیاری بھی شروع کر دی ہے، جس کے باعث تقریباً 1100 طلبہ اور ان کے والدین شدید تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اس کارروائی نے نہ صرف تعلیمی نظام بلکہ انتظامی نگرانی پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسکول کو سال 1991 میں تعلیمی مقاصد کے لیے تقریباً 3549 مربع میٹر زمین الاٹ کی گئی تھی۔ اس وقت زمین کی الاٹمنٹ شرح تقریباً 600 روپے فی مربع میٹر مقرر کی گئی تھی۔ الاٹمنٹ کی بنیادی شرط یہ تھی کہ زمین کا استعمال صرف تعلیمی سرگرمیوں کے لیے ہوگا اور تمام ضابطوں کی مکمل پابندی لازم ہوگی۔ تاہم گزشتہ کئی برسوں سے اسکول انتظامیہ پر ان شرائط کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آتے رہے تھے۔
تعلیمی بورڈ کی جانب سے منظوری منسوخ کیے جانے کے بعد نوئیڈا اتھارٹی نے بھی فائلوں کی ازسرِ نو جانچ شروع کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ زمین کا استعمال مقررہ شرائط کے خلاف ہوا ہے تو الاٹمنٹ منسوخ کر کے زمین واپس لی جا سکتی ہے۔ اسکول میں اس وقت تقریباً 1100 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ نویں سے بارہویں جماعت تک ہر کلاس میں تین سیکشن چل رہے ہیں، جن میں فی سیکشن 35 سے 40 طلبہ شامل ہیں۔ دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ بورڈ امتحانات کی تیاری میں مصروف ہیں، جبکہ نویں اور گیارہویں جماعت کے طلبہ کے مستقبل کو لے کر سب سے زیادہ غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
اچانک منظوری ختم ہونے کے بعد والدین میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ متعدد سرپرستوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی سیشن کے درمیان اس طرح کی کارروائی بچوں کے کیریئر پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ والدین نے اسکول انتظامیہ سے واضح روڈ میپ طلب کیا ہے کہ طلبہ کی تعلیم آئندہ کہاں اور کیسے جاری رکھی جائے گی۔ تاہم اسکول انتظامیہ نے مسئلے کے حل کے لیے تقریباً ایک ہفتے کا وقت مانگا ہے۔ اسکول انتظامیہ کے مطابق ہولی کے بعد طلبہ کو دیگر تسلیم شدہ اسکولوں میں منتقل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس حوالے سے متعلقہ تعلیمی اداروں اور بورڈ حکام سے رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ طلبہ کا تعلیمی سال متاثر نہ ہو۔ اس کے باوجود والدین کا کہنا ہے کہ ابھی تک کوئی تحریری یا حتمی منصوبہ سامنے نہیں آیا۔
حال ہی میں منعقدہ ایک میٹنگ میں انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی کہ سی بی ایس ای حکام کے ساتھ بات چیت جاری ہے، مگر والدین اس وضاحت سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر زمین بھی واپس لے لی گئی تو اسکول مکمل طور پر بند ہونے کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے، جس سے طلبہ کو اچانک دوسرے اداروں میں داخلہ لینا پڑے گا۔ ادھر سب کی نظریں اب نوئیڈا اتھارٹی کے اگلے فیصلے پر مرکوز ہیں۔ ذرائع کے مطابق اتھارٹی اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ گزشتہ برسوں میں طلبہ سے وصول کی گئی فیس کہاں خرچ ہوئی اور آیا مالی معاملات میں بھی بے ضابطگیاں ہوئیں یا نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دستاویزات کی تفصیلی چھان بین کے بعد جلد حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔
اس پورے معاملے میں ایک اہم سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ تقریباً 35 برس تک اتھارٹی کی جانب سے کوئی سخت کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ سال بعض اساتذہ نے اسکول انتظامیہ پر ہراسانی، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور انتظامی بدانتظامی کے الزامات عائد کرتے ہوئے ضلعی تعلیمی افسر اور سی بی ایس ای کو شکایتی خطوط ارسال کیے تھے۔ بعد ازاں تحقیقات میں بے ضابطگیاں سامنے آنے پر منظوری منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تعلیمی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاملے نے نجی تعلیمی اداروں کی نگرانی کے نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ فی الحال سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ متاثرہ طلبہ کی تعلیم بلا رکاوٹ جاری رکھی جائے۔ والدین، طلبہ اور اساتذہ اب انتظامیہ کے حتمی فیصلے کے منتظر ہیں، کیونکہ آنے والے دن اس اسکول اور اس سے وابستہ سیکڑوں خاندانوں کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
28 سے 30 ستمبر تک ہونے والی ہڑتال پانچ روزہ بینکنگ ہفتے سمیت کئی مطالبات…
لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی…
بھارت منڈپم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشوک سنگھل…
ہندوستان نے وراٹ کوہلی اور کپتان شبھمن گل کی شاندار سنچریوں کی بدولت اتوار کو…
گجرات کے کچھ میں واقع کھاوڑا رینیوایبل انرجی پارک کو ملا الگ پن کوڈ اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو کانگریس پر حملہ تیز کرتے ہوئے سابق…