نئی دہلی: سندر پچائی، سی ای او گوگل اور الفابیٹ نے جمعرات کو عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس وہ ٹیکنالوجی ہے جس نے انہیں سب سے زیادہ بڑے خواب دیکھنے کی ترغیب دی ہے، اور یہ ’’ہماری زندگی کا سب سے بڑا پلیٹ فارم انقلاب‘‘ ہے۔ انہوں نے قومی دارالحکومت میں منعقدہ ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’کوئی بھی ٹیکنالوجی مجھے اے آئی سے زیادہ بڑے خواب دیکھنے کے لیے متاثر نہیں کرتی۔ ہم تیز رفتار ترقی اور نئی دریافتوں کے دہانے پر کھڑے ہیں، جو ابھرتی ہوئی معیشتوں کو روایتی کمزوریوں پر قابو پانے میں مدد دے سکتی ہیں۔‘‘ سندر پچائی نے حکومتوں اور صنعتوں پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کے ساتھ جرات مندانہ اور ذمہ دارانہ اقدامات کریں تاکہ اس ٹیکنالوجی کے فوائد سب تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی کے مثبت نتائج خود بخود یقینی نہیں ہوتے، اس کے لیے درست سمت اور نگرانی ضروری ہے۔ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں وزیراعظم مودی نے ٹیک سربراہوں سے ملاقات کی اور گروپ فوٹو کے ذریعہ یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
الفا فولڈ: سائنسی تحقیق میں انقلابی پیش رفت
گوگل کے سی ای او نے اے آئی سے چلنے والی سائنسی ترقی کی مثال دیتے ہوئے الفا فولڈ کا ذکر کیا، جو گوگل ڈیپ مائنڈ کی تیار کردہ پروٹین فولڈنگ ٹیکنالوجی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی نے غیر معمولی پیش رفت کی ہے اور اسے 190 سے زائد ممالک میں 30 لاکھ سے زیادہ محققین استعمال کر رہے ہیں، جن میں ملیریا ویکسین کی تیاری بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق الفا فولڈ نے کئی دہائیوں کی تحقیق کو ایک ایسے ڈیٹا بیس میں سمیٹ دیا ہے جو پوری دنیا کے لیے دستیاب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گوگل ڈی این اے بیماری کے اشاریوں کی فہرست سازی کر رہا ہے اور ایسے اے آئی ایجنٹس تیار کر رہا ہے جو سائنسی طریقۂ کار میں حقیقی شراکت دار کے طور پر کام کریں گے۔
بھارت میں 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری
سندر پچائی نے بھارت میں کمپنی کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کا بھی ذکر کیا، جس میں وشاکھاپٹنم میں ایک مکمل اے آئی ہب کا قیام شامل ہے۔ یہ منصوبہ 15 ارب امریکی ڈالر کے بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کا حصہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھارت میں تبدیلی کی رفتار سے بے حد متاثر ہیں اور ہمیں اے آئی کے حوالے سے جرات مندانہ موقف اپنانا چاہیے، کیونکہ یہ اربوں لوگوں کی زندگی بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
فائبر آپٹک نیٹ ورک اور کسانوں کے لیے اے آئی
انہوں نے بتایا کہ کمپنی انڈیا–امریکہ کنیکٹ اقدام کے تحت امریکہ اور بھارت کے درمیان چار نئی سب میرین فائبر آپٹک کیبلز سمیت ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’’بھارت میں ہم کسانوں کو ان کی روزی روٹی کے تحفظ میں مدد دے رہے ہیں۔ گزشتہ سال بھارتی حکومت نے اے آئی پر مبنی موسمی پیش گوئیاں لاکھوں کسانوں کو بھیجیں، جس سے انہیں خراب موسم کے بارے میں بروقت خبردار کیا گیا۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…