قومی

No cash kept in storeroom by me: جسٹس ورما کے گھر سے نقدی کی ویڈیو وائرل،سپریم کورٹ کی تحقیقات جاری،جسٹس ورما نے عدالت کے سامنے رکھا اپنا موقف

دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کو ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں جسٹس یشونت ورما کے گھر سے نقدی کی بازیابی کے الزامات کی تحقیقات کی گئی ہیں۔ یہ الزامات 14 مارچ کو ان کے گھر میں آگ لگنے کے دوران سامنے آئے، جب مبینہ طور پر بڑی مقدار میں نقدی پائی گئی۔ جسٹس ورما نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور اسے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی سازش قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے اور فی الحال جسٹس ورما کو کوئی عدالتی ذمہ داریاں سونپنے سے منع کیا ہے۔وہیں جسٹس یشونت ورما نے ان  پر لگے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انہیں بدنام کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ انہوں نے اپنے جواب میں وضاحت دی کہ آگ لگنے والی جگہ ایک بیرونی کمرہ تھا جو ان کے خاندان کے رہائشی حصے سے الگ ہے اور اس تک متعدد افراد کی رسائی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ تو انہوں نے اور نہ ہی ان کے خاندان کے کسی فرد نے اس کمرے میں کوئی نقدی رکھی تھی۔

ادھرسپریم کورٹ نے اس معاملے کی گہرائی سے جانچ کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شیل ناگو،ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جی ایس سندھاویلیا اورکرناٹک ہائی کورٹ کی جج جسٹس انو سیوارامن شامل ہیں۔اس کے علاوہ، سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ہدایت دی ہے کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے تک جسٹس ورما کو کوئی عدالتی کام نہ سونپیں۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے، سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کی رپورٹ، جسٹس ورما کا جواب، اور دیگر متعلقہ دستاویزات کو اپنی ویب سائٹ پر شائع کر دیا ہے۔

جسٹس ورما نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ یہ الزامات ان کی ساکھ کو داغدار کرنے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آگ لگنے کے بعد ان کے عملے اور خاندان کے افراد کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر جائے وقوع سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ جب آگ بجھائی گئی اور وہ واپس آئے تو وہاں کوئی نقدی یا کرنسی نہیں ملی۔دہلی پولیس کمشنر کی رپورٹ کے مطابق، جسٹس ورما کے گھر پر تعینات گارڈ نے بتایا کہ 15 مارچ کی صبح آگ لگنے والے کمرے سے ملبہ اور جزوی طور پر جلے ہوئے سامان کو ہٹایا گیا تھا۔ تاہم، جسٹس ورما نے اس بات کی تردید کی کہ ان کے عملے نے کوئی کرنسی ہٹائی ہو۔اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، اور سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ کمیٹی اس کی مکمل چھان بین کرے گی۔ یہ واقعہ عدالتی شفافیت اور جوابدہی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا رہا ہے، اور اس کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Asian Games: بنگلہ دیش نے پاکستان کو 112 رنز کا ہدف دیا، سفیان مقیم نے لیے 3 وکٹ

ایشیئن گیمز 2026 کے مردوں کے کرکٹ مقابلے کے پہلے سیمی فائنل میں بنگلہ دیش…

27 minutes ago

Umar Khalid-Sharjeel Imam: عمر خالد اور شرجیل امام کو بڑا جھٹکا، دہلی ہائی کورٹ نے تیسری ضمانت درخواست بھی کی مسترد

جسٹس پرتبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ کی بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ…

9 hours ago

Election Commission Dispute: ’کابینہ سکریٹری کو خط لکھنا پروٹوکول کے خلاف‘، الیکشن کمیشن کے سابق افسر محمد امین کا بڑا دعویٰ

الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کی خبروں کے درمیان سابق جوائنٹ ڈائریکٹر محمد امین نے…

9 hours ago

PM Narendra Modi: گرین انرجی اسکیم، 2035 تک 900 گیگاواٹ غیر فوسل توانائی کا ہدف حاصل کرنے کی جانب اہم پیش رفت، پی ایم مودی

گرین انرجی کوریڈور فیز-III کو کابینہ کی منظوری، 135 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی ترسیل…

10 hours ago