قومی

Nitin Gadkari Flags Rising Poverty: مرکزی وزیر نتن گڈکری نے ملک میں ’’بڑھتی ہوئی غربت‘‘ پر کیا تشویش کا اظہار، روزگار پیدا کرنے اور دیہی ترقی پر دیا زور

مرکزی وزیر نتن گڈکری نے ہفتہ کے روز بڑھتی ہوئی غربت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دولت چند امیر افراد کے ہاتھوں میں سمٹتی جا رہی ہے۔ ناگپور میں ایک تقریب کے دوران نتن گڈکری نے کہا کہ دولت کی مرکزیت کے بجائے اس کی جائز تقسیم کی ضرورت ہے۔

انھوں نے زراعت، مینوفیکچرنگ، ٹیکسیشن اور انفراسٹرکچر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ جیسے موضوعات پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ سڑک و شاہراہوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے کہا کہ ’’آہستہ آہستہ غریب لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور دولت کچھ امیر لوگوں کے ہاتھ میں مرکوز ہو رہی ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ انھوں نے  مزید کہا کہ ’’ہمیں اس پر فکر مند ہونا چاہیے۔‘‘

روزگار کی تخلیق اور دیہی ترقی پر زور

انھوں نے کہا کہ معیشت کو اس انداز میں ترقی دینی چاہیے کہ روزگار پیدا ہو اور دیہی علاقوں کی حالت بہتر ہو۔ نتن گڈکری نے کہا کہ ’’ہم ایسی معاشی پالیسی بنانا چاہتے ہیں جو روزگار پیدا کرے اور معیشت کی ترقی میں مدد دے۔ دولت کی تقسیم کی ضرورت ہے اور اس سمت میں کئی تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔‘‘ سینئر بی جے پی لیڈر گڈکری نے سابق وزرائے اعظم پی وی نرسمہا راؤ اور منموہن سنگھ کو آزاد معاشی پالیسیوں کے نفاذ کا کریڈٹ بھی دیا، تاہم دولت کی غیر متوازن مرکزیت پر تشویش کا اظہار کیا۔

معیشت میں شعبہ جاتی توازن کی کمی

بھارت کے معاشی ڈھانچے پر روشنی ڈالتے ہوئے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے نشان زد کیا کہ مختلف شعبوں کا جی ڈی پی میں حصہ غیر متوازن ہے۔ انھوں نے کہا کہ جی ڈی پی میں’’مینوفیکچرنگ کا حصہ 22 سے 24 فیصد، خدمات کا 52 سے 54 فیصد ہے، جب کہ زراعت، جس میں دیہی آبادی کا 65 سے 70 فیصد مصروف ہے، صرف 12 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔‘‘ اس دوران سوامی وویکانند کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’جس کا پیٹ خالی ہو، اُسے فلسفہ نہیں سکھایا جا سکتا۔‘‘

چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس بن سکتے ہیں معیشت کے محرک

گڈکری نے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’سی اے معیشت کے انجن بن سکتے ہیں۔ اب معیشت تیزی سے بدل رہی ہے۔ یہ صرف انکم ٹیکس ریٹرن یا جی ایس ٹی فائل کرنے تک محدود نہیں رہی۔‘‘ وہیں انفراسٹرکچر میں حکومت کی کوششوں پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’میں نے ہی سڑکوں کی تعمیر کے لیے بلڈ-آپریٹ-ٹرانسفر (BOT) سسٹم شروع کیا تھا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ سڑکوں کی تعمیر کے لیے فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے۔

ٹول سے ہو رہی ہے بڑی آمدنی

نتن گڈکری نے بتایا کہ ’’اب ہم ٹول سے تقریباً 55,000 کروڑ روپے کماتے ہیں اور اگلے دو سال میں یہ آمدنی 1.40 لاکھ کروڑ ہو جائے گی۔ اگر ہم اسے 15 سال کے لیے مونیٹائز کریں، تو ہمارے پاس 12 لاکھ کروڑ ہوں گے۔ نئے ٹول سے مزید آمدنی ہو گی۔‘‘ انھوں نے علاقائی رابطے اور سرمایہ کاری بڑھانے والے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ’’ہم کیدارناتھ میں 5,000 کروڑ روپے کی روپ وے بنا رہے ہیں۔ کنٹریکٹر یہ رقم خرچ کرے گا اور مرکزی حکومت کو 800 کروڑ روپے رائلٹی دے گا۔‘‘

بیرونی فنڈز نہیں، ملک کے عوام کی سرمایہ کاری پر ہے انحصار

نتن گڈکری نے گھریلو سرمایہ کاری کے بارے میں کہا کہ انھوں نے انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ ٹرسٹ (InvIT) بانڈز کے ذریعے بغیر بیرونی امداد کے فنڈز اکٹھے کیے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’’میں کینیڈا یا امریکہ جیسے ممالک سے پیسہ نہیں لے رہا۔ میں ملک کے غریب عوام سے حاصل کردہ سرمایہ سے سڑکیں بناؤں گا۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Iran shoots down US military drone: ایران کا بڑا دعویٰ، 24 گھنٹے میں آبنائے ہرمز میں 3 امریکی ڈرون مار گرائے

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…

2 hours ago

Sepehran Airlines Boeing 737: اڑان کے بعد طیارے کا ٹائر ہوا ٹائر ہوا الگ، مسافروں میں خوف و ہراس

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…

2 hours ago

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

3 hours ago

Delhi Weather Today: دہلی-این سی آر میں آج بونداباندی کے امکانات، جانئے محکمہ موسمیات کا تازہ اپ ڈیٹ

آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…

3 hours ago