قومی

Nishikant Dubey demands to make five districts UT: نشی کانت دوبے نے مرشد آباد سمیت پانچ اضلاع کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کا کیا مطالبہ، جھارکھنڈ کے ضلعے بھی ہیں شامل

نئی دہلی: جھارکھنڈ کی گوڈا سیٹ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے مغربی بنگال کے مرشد آباد سمیت 5 اضلاع کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے پہلے مرشد آباد اسمبلی سے بی جے پی ایم ایل اے گوری شنکر گھوش نے کہا تھا کہ جس طرح سے مرشد آباد ضلع میں بنگلہ دیشی دراندازی ہو رہی ہے، اس سے سیکورٹی میں رکاوٹ آئے گی۔ ایم ایل اے نے 2022 میں بنگلہ دیشی دراندازی کا مدعا وزارت داخلہ کے ساتھ اٹھایا تھا اور ملک کی سلامتی کے لیے انہوں نے مرشد آباد اور مالدہ سمیت جھارکھنڈ کے کچھ اضلاع کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔

بی جے پی ایم ایل اے نے 2022 میں وزارت داخلہ اور گورنر کو اس مطالبے کے حوالے سے ایک خط بھی لکھا تھا۔ ان کی پارٹی کو اس مطالبے پر بھروسہ ہے اور اسے یقین ہے کہ آنے والے دنوں میں وزارت داخلہ اس مطالبے کو منظور کر لے گی۔ اس مطالبہ کو بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے آگے بڑھایا ہے اور ایک بار پھر پانچ اضلاع کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بتا دیں کہ جمعرات کے روز نشی کانت دوبے نے لوک سبھا میں جھارکھنڈ میں ہندو آبادی میں کمی، بنگلہ دیشی دراندازی، تبدیلی مذہب اور این آر سی کا مدعا اٹھایا تھا۔ ہندوؤں کی گھٹتی ہوئی آبادی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے این آر سی کے نفاذ کا مطالبہ کیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ جھوٹ نکلا تو استعفیٰ دینے کو تیار ہوں۔

انہوں نے لوک سبھا میں کہا تھا کہ آج تمام اپوزیشن لیڈر ایک ہی بات کہہ رہے ہیں کہ آئین کو خطرہ ہے۔ حالانکہ، حقیقت کچھ اور ہے۔ یہ آئین نہیں بلکہ کچھ لوگوں کی سیاست خطرے میں ہے۔ جب جھارکھنڈ بہار سے الگ ہو کر الگ ریاست بنا تو سنتھال پرگنہ علاقے میں قبائلیوں کی تعداد 2000 میں 36 فیصد تھی جو آج 26 فیصد ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ دس فیصد قبائلی کہاں کھو گئے؟ اس ایوان میں اس معاملے پر کبھی بحث نہیں ہوتی، صرف ووٹ بینک کی سیاست ہوتی ہے۔

بی جے پی لیڈر نے مزید کہا کہ جھارکھنڈ حکومت بھی اس پر کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ ہمارے ملک میں بنگلہ دیش سے دراندازی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، بنگلہ دیشی درانداز قبائلی خواتین سے شادیاں کر رہے ہیں۔ ہماری جگہ سے الیکشن لڑنے والی قبائلی خواتین کے شوہر مسلمان ہیں، ضلع پریشد کی چیئرپرسن کے شوہر مسلمان ہیں۔ ہمارے ایک لاکھ قبائلی مکھیہ ہیں جن کے شوہر مسلمان ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

2 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

3 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

3 hours ago