قومی

NIA Court Declares Vishal Pachar Fugitive: این آئی اے عدالت نے گینگسٹر وشال پچار کو قرار دیا ’بھگوڑا‘، پوسٹر چسپاں کر اور ڈھول بجا کر کیا گیا اعلان

شری گنگا نگر کا رہنے والا گینگسٹر وشال پچار عرف ببلو کو این آئی اے عدالت (NIA Court) نے مفرور قرار دے دیا ہے۔ جمعہ کے روز جے پور سے آئی این آئی اے کی ٹیم اس کے گھر پہنچی اور چوک چوراہوں پر ڈھول بجا کر عوامی طور پر اسے مفرور قرار دینے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد بس اسٹینڈ، نگر پریشد اور لیلا چوک سمیت دیگر مصروف مقامات پر اس کے نام کے پوسٹر بھی چسپاں کیے گئے۔

عدالت کا حکم

این آئی اے عدالت نے وشال پچار کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر رکھا ہے۔ عدالت کے مطابق وہ کئی سنگین مقدمات میں مطلوب ہے اور طویل عرصے سے عدالت میں پیشی سے گریز کر رہا ہے۔ پولیس بھی اسے گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عدالت کا ماننا ہے کہ وہ سمن سے بچنے کے لیے روپوش ہے یا پھر ملک چھوڑ کر فرار ہو چکا ہے۔

شراب کے ٹھیکے سے جرائم کی دنیا تک

وشال پچار، جو لارنس بشنوئی گینگ میں ’الیکس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، ابتدا میں اپنے والد کے ساتھ شراب کے ٹھیکے پر کام کرتا تھا۔ اسی دوران اس کی ملاقات پنجاب اور ہریانہ کے جرائم پیشہ افراد سے ہوئی اور آہستہ آہستہ وہ جرائم کی دنیا میں داخل ہو گیا۔

پہلی گرفتاری اور مقدمات

سال 2013 میں شری گنگا نگر پولیس نے اسے پہلی مرتبہ جوا کھیلتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ اس وقت کم عمر ہونے کے باعث عدالت نے معمولی جرمانہ عائد کرکے اسے رہا کر دیا تھا۔ فی الحال اس کے خلاف راجستھان اور پنجاب میں دھمکی، بھتہ خوری اور اسلحہ سپلائی جیسے تقریباً 11 مقدمات درج ہیں۔ پولیس نے اس کی گرفتاری پر 25 ہزار روپے کا انعام مقرر کیا ہے، جبکہ انٹرپول اس کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس بھی جاری کر چکا ہے۔

پاکستان سے جڑے نیٹ ورک کا الزام

رپورٹ کے مطابق اس نے 2020 میں پاسپورٹ بنوایا اور 2024 میں نیپال کے راستے بھارت سے فرار ہو گیا۔ سرحدی علاقوں کی معلومات ہونے کی وجہ سے لارنس گینگ نے اسے نیٹ ورک قائم کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ الزام ہے کہ اس نے پاکستان کے منشیات اور اسلحہ اسمگلروں سے براہِ راست رابطے قائم کیے اور سرحدی دیہات میں سپلائی چین تیار کی۔

پولیس کی تلاش جاری

اس کا بچپن کا دوست دیویندر بھامبھو بھی گینگ میں شامل کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ کھیتوں میں پاکستان سے گرائے گئے پیکٹوں کے ذریعے سپلائی کا کام انجام دیا جاتا تھا، جس کے بعد یہ نیٹ ورک پنجاب سرحد تک پھیل گیا۔ اب پولیس انٹرپول کی مدد سے اس کی تلاش میں مصروف ہے اور اس کے خلاف لک آؤٹ نوٹس بھی جاری کیا جا چکا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

JNU Students on Indefinite Hunger Strike: جے این یو میں طلبہ کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال، یہ ہیں اہم مطالبات

طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…

2 hours ago

Jantar Mantar Protest: جنتر منتر پر اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی سخت، دفعہ 163نافذ

سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…

2 hours ago

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

12 hours ago