بہار اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ آج ہورہی ہے۔ اس مرحلے میں 122 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ این ڈی اے اور مہاگٹھ بندھن کے ساتھ ساتھ کئی دیگر علاقائی جماعتیں بھی اپنی پوری طاقت کے ساتھ میدان میں ہیں۔ دوسرے مرحلے کی پولنگ بنیادی طور پر سیمانچل، شاہ آباد-مگدھ، انگ پردیش، چمپارن اور متھلا (خاص طور پر مدھوبنی) کے علاقوں میں ہو رہی ہے۔ یہ مرحلہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ سیمانچل اور شاہ آباد-مگدھ میں سیاسی اور سماجی اعتبار سے روایتی طور پر مہاگٹھ بندھن مضبوط مانا جاتا رہا ہے، جبکہ این ڈی اے کے لیے یہاں راستہ کچھ مشکل سمجھا جاتا ہے۔
سیمانچل اور شاہ آباد-مگدھ: این ڈی اے کے لیے مشکل میدان
سیاسی حالات اور سماجی برادریوں کے ووٹنگ پیٹرن کو دیکھتے ہوئے ان دونوں علاقوں میں این ڈی اے کو چیلنج درپیش ہے۔ جبکہ مہاگٹھ بندھن کے ساتھ ساتھ اسد الدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم بھی ان علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوششوں میں سرگرم ہے۔ اس بار پرشانت کشور کی پارٹی جن سوراج کے میدان میں آنے سے انتخابی مقابلہ مزید غیر یقینی اور دلچسپ بن گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اویسی کی پارٹی نے مہاگٹھ بندھن کی روایتی مسلم ووٹ بینک میں دراڑ ڈالی ہے، جبکہ جن سوراج نے این ڈی اے کے ووٹوں میں نقب لگائی ہے۔
2020 کے انتخابی نتائج کا حوالہ
2020 کے اسمبلی انتخابات میں مہاگٹھ بندھن نے 110 نشستوں میں سے 46 صرف شاہ آباد اور مگدھ کے علاقوں میں جیتی تھیں، جب کہ این ڈی اے کو یہاں سے صرف 23 سیٹیں ملی تھیں۔ اس طرح یہ علاقہ مہاگٹھ بندھن کا مضبوط قلعہ تصور کیا جاتا رہا ہے۔ شاہ آباد کے چار لوک سبھا حلقوں میں 25 اسمبلی نشستیں آتی ہیں، جن میں سے 20 مہاگٹھ بندھن نے 2020 میں جیتی تھیں۔ اسی طرح مگدھ میں 42 نشستیں آتی ہیں، اور یہاں بھی برادریوں کے توازن نے مہاگٹھ بندھن کو فائدہ پہنچایا ہے۔ یہ علاقے یادو، کرمی، راجپوت اور دلت ووٹرز کے توازن پر قائم ہیں، جبکہ کچھ نشستوں پر بھومیہار طبقے کا اثر بھی نمایاں ہے۔
اے آئی ایم آئی ایم اور این ڈی اے کی واپسی کی کوشش
سیمانچل کی 24 نشستوں میں 2020 میں این ڈی اے نے 12، اے آئی ایم آئی ایم نے 5 اور مہاگٹھ بندھن نے صرف 6 نشستیں جیتی تھیں۔ اویسی کی پارٹی نے کشن گنج اور ارریہ میں نوجوانوں اور اقلیتوں کے بیچ مضبوط اثر بنایا تھا اور اس بار بھی ان کی حکمت عملی پھر سے جارحانہ نظر آتی ہے۔ دوسری جانب آر جے ڈی اپنی پرانی پوزیشن واپس حاصل کرنے کے لیے پوری طاقت لگا رہی ہے۔
چمپارن اور مدھوبنی کی اہمیت
2020 میں چمپارن اور متھلانچل (مخصوص طور پر مدھوبنی اور دربھنگہ) نے این ڈی اے کی حکومت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ یہاں کی 41 نشستوں میں سے 34 نشستیں این ڈی اے کے حصے میں آئی تھیں، جب کہ مہاگٹھ بندھن صرف 7 سیٹوں پر محدود رہا تھا۔ اس بار مقابلہ سخت اور غیر یقینی ہے۔ جن سوراج اور اے آئی ایم آئی ایم کے میدان میں آنے سے سیاست بدل رہی ہیں۔ سیمانچل میں مذہبی ووٹنگ پیٹرن اور شاہ آباد-مگدھ میں برادریوں کی اتحاد سازی کا نتیجہ طے کرے گا کہ اقتدار کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو بیک وقت تحریری…
انتخابی کمیشن کے اندر فیصلوں سے متعلق اختلافات کی رپورٹ کے بعد دونوں الیکشن کمشنر…
ملک کے کئی حصوں میں بارش اور تیز ہواؤں نے لوگوں کی مشکلات بڑھا دی…
اپوزیشن کی جانب سے نئے نوٹس کا مسودہ تیار، قانونی ماہرین سے کرائی جا رہی…
اپوزیشن نے مارچ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں گیانیش کمار کو عہدے سے…
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ شہریوں کے لیے…