نئی دہلی میں منعقدہ 18ویں برکس سربراہ اجلاس کا آج یعنی 13 ستمبر کو اختتام ہو گیا۔ اس عالمی اجلاس میں بھارت کی سفارتی سرگرمیوں کا ’ماراتھن‘ دیکھنے کو ملا، جہاں وزیر اعظم نریندر مودی نے ان 3 دنوں کے دوران دنیا کے 15 سربراہان مملکت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کیے۔18ویں برکس سربراہ اجلاس میں 40 فیصد سے زیادہ عالمی جی ڈی پی کی نمائندگی کرنے والے 11 رکن ممالک، 12 شراکت دار ممالک اور اقوام متحدہ سمیت تقریباً 5 بین الاقوامی اداروں نے نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں کئی اہم فیصلے کیے۔ یہ فیصلے برکس کے رکن ممالک کے مستقبل کے لیے ایک بڑے روڈ میپ کی طرح ہیں۔ برکس اجلاس کے اختتام کے بعد یہ سوال اہم ہے کہ اس سربراہ اجلاس کے 5 بڑے فیصلے کیا رہے اور بھارت کو اس سے کیا حاصل ہوا؟ 3 دن کی تفصیلی بات چیت کے بعد جاری کیے گئے دہلی اعلامیے میں 5 بڑے فیصلے کچھ اس طرح رہے۔
دہشت گردی پر زیرو ٹالرنس، پہلگام حملے کی مذمت
18ویں برکس سربراہ اجلاس کے سب سے بڑے فیصلوں کی بات کی جائے تو سب سے اہم دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس اور پہلگام حملے کی مذمت رہی۔ برکس کے پلیٹ فارم سے رکن ممالک نے متفقہ طور پر، کسی بھی دوہرے معیار کے بغیر، دہشت گردی کی ہر شکل کی سخت مذمت کی۔اجلاس میں سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے پر مکمل اتفاق رائے ہوا۔ ساتھ ہی اپریل 2025 میں جموں و کشمیر میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی گئی اور دہشت گردی کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ یعنی کسی بھی صورت میں برداشت نہ کرنے کی پالیسی اپنانے کی اپیل کی گئی۔
یکطرفہ ٹیرف اور پابندیوں کی مخالفت
برکس گروپ نے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) میں اصلاحات کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا اور ایک کھلے، منصفانہ، شفاف، غیر جانب دار، جامع اور قوانین پر مبنی کثیر فریقی تجارتی نظام کا مطالبہ کیا۔اس کے ساتھ ہی ڈبلیو ٹی او کے تنازعات کے حل کے نظام کو مکمل اور فوری طور پر بحال کرنے کی بھی وکالت کی گئی۔ اعلامیے میں یکطرفہ اقتصادی اور ثانوی پابندیوں کی بھی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں۔ برکس نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات ترقی، صحت اور غذائی تحفظ پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
گلوبل ویلیو چین پر برکس ممالک کی تشویش
18ویں برکس سربراہ اجلاس میں 2026 سے 2030 تک گلوبل ویلیو چین کے تحت ایک دوسرے کے لیے بازار کھولنے اور باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں جنگ کے دوران تجارتی جہاز رانی کے راستوں سے متعلق مسائل کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بات کہی گئی۔اس کے علاوہ مغربی ممالک کی جانب سے یکطرفہ ٹیرف عائد کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
گلوبل ساؤتھ کی آواز اور عالمی اداروں میں اصلاحات
وزیر اعظم نریندر مودی سے لے کر چینی صدر شی جن پنگ تک نے گلوبل ساؤتھ کو مزید مضبوط بنانے کی وکالت کی۔ وزیر اعظم مودی کی جانب سے پیش کیے گئے خیالات کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) سمیت کثیر فریقی اداروں میں ساختی اصلاحات اور ’گلوبل ساؤتھ‘ کی مضبوط شمولیت کی حمایت کی گئی۔
مشرق وسطیٰ کے بحران اور مصنوعی ذہانت پر اہم فیصلہ
پانچویں بڑے فیصلے کے طور پر مشرق وسطیٰ اور علاقائی بحرانوں پر برکس ممالک نے تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں خطے میں جاری بحرانوں کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے محفوظ، جامع اور شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر ایک گورننس فریم ورک تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
بھاارت ایکپریس اردو
راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام…
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے 2029 کے آخر تک پورے بھارت کو…
اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…
پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…