قومی

National Seminar on Sufism held at Jamia Hamdard: ہندوستان میں مذہبی رواداری اورسماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لئے جامعہ ہمدرد میں اٹھایا گیا یہ قدم

نئی دہلی: سینٹرفارصوفی اسٹڈیز(مرکزمطالعاتِ تصوف)، جامعہ ہمدرد، کے زیراہتمام، تیغ برہنہ سہروردیہ فاؤنڈیشن، ادونی کے اشتراک سے “ہندوستان میں مذہبی رواداری اورسماجی ہم آہنگی کے فروغ میں خانقاہوں کا کردار” کے عنوان سے جامعہ ہمدرد کے کنونشن سینٹرمیں یک روزہ قومی سیمینارکا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ اس اہم علمی اجتماع میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جواہرلعل نہرو یونیورسٹی، دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، جامعہ ہمدرد، عالیہ یونیورسٹی کولکاتہ، ذاکرحسین کالج دہلی سمیت متعدد جامعات کے پروفیسرز، ڈاکٹرزاورریسرچ اسکالرزنے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

سیمینارکے مختلف علمی اجلاسوں میں تقریباً 70 تحقیقی مقالات پیش کئے گئے۔ اس کے علاوہ خانقاہوں، مدارس اورمساجد سے وابستہ مشائخ، سجادگان اورعلماء کرام کی بھی نمایاں شرکت رہی۔ افتتاحی اجلاس کا آغازصبح 10 بجے تلاوتِ کلامِ پاک اورنعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔ اجلاس کی صدارت شیخ الجامعہ پروفیسرافشارعالم نے کی، جبکہ سید مولانا محمد نوید ادونی مہمانِ خصوصی کے طورپرشریک ہوئے۔ مہمانانِ اعزازی میں مفتی حماد احمد، پروفیسراخترالواسع اورپروفیسربشیراحمد خان شامل تھے۔ ڈاکٹرمحمد فضل الرحمن نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹرمحمد احمد نعیمی نے انجام دیئے۔

صوفیائے کرام نے ہمیشہ بلا تفریق مذہب وملت محبت کوفروغ دیا: وائس چانسلر

اپنے صدارتی خطاب میں وائس چانسلرپروفیسرافشارعالم نے کہا کہ صوفیائے کرام نے ہمیشہ بلا تفریق مذہب وملت محبت، اخوت، امن وآشتی اورخدمتِ خلق کوفروغ دیا ہے۔ موجودہ دورمیں ان تعلیمات کوعملی طورپرعام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مہمانِ خصوصی سید مولانا محمد نوید ادونی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج عالمی سطح پراس بات کی شدید ضرورت ہے کہ مشائخ اورصوفیاء خانقاہوں سے نکل کرسماجی میدان میں فعال کردار ادا کریں اور معاشرے میں باہمی رواداری، اخوت اورامن کوفروغ دیں۔ انہوں نے تیغ برہنہ سہروردیہ فاؤنڈیشن، ادونی کی سماجی خدمات پربھی روشنی ڈالی۔

حکیم عبدالحمید کی خدمات صوفیانہ روایات کا حصہ: پروفیسربشیراحمد خان
پروفیسربشیراحمد خان نے صوفیائے کرام کی خدمات کوخراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بانی جامعہ ہمدرد حکیم عبدالحمید کے صوفیائے کرام سے تعلق کا ذکرکیا اوران کی خدمات کوصوفیانہ روایت کا تسلسل قراردیا۔ پروفیسراختر الواسع نے کہا کہ تصوف کی تاریخ نہایت قدیم ہے اورہردورمیں صوفیائے کرام نے معاشرے کی اصلاح میں اہم کردارادا کیا ہے۔ انہوں نے مختلف درگاہوں اورخانقاہوں کی خدمات کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ جدید عصری علوم کے فروغ میں بھی نمایاں کردارادا کررہے ہیں۔ سیمینارکے دوران نمازِظہرسے قبل اوربعد مختلف ہالزمیں متعدد علمی نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں تقریباً ستر تحقیقی مقالات پیش کیے گئے اورشرکاء نے بھرپوردلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

صوفیائے کرام کی تعلیمات کی اہمیت پر تبادلہ خیال
اختتامی اجلاس میں پروفیسرعبیداللہ فہد نے نصیحت آمیزخطاب کرتے ہوئے صوفیائے کرام کی تعلیمات کی اہمیت کواجاگرکیا۔ پروفیسرمسعود انورعلوی نے مختصراظہارِخیال پیش کیا۔ سہروردیہ فاؤنڈیشن کے نائب صدرمفتی فیض محمد شکیل خان نے صوفیانہ تعلیمات کوسمجھنے اوران پرعمل پیرا ہونے کی ضرورت پرزوردیا اورسیمینارکے کامیاب انعقاد پرمنتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ سجادہ نشیں سہروردیہ، سید مولانا محمد نوید ادونی نے بھی اپنے اختتامی کلمات میں صوفیانہ تعلیمات کے فروغ پرزوردیا اورجامعہ ہمدرد اورمرکزمطالعاتِ تصوف کا شکریہ ادا کیا۔ آخرمیں ڈاکٹرآبروامان اندرابی نے ہدیۂ تشکرپیش کیا۔ اس موقع پرڈاکٹرمحمد اجمل، ڈاکٹرظفرالدین برکاتی، ڈاکٹرندیم اشرف، ڈاکٹرواحد نظیر، ڈاکٹرمحمد ارشد، ڈاکٹرصفیہ عامر، ڈاکٹروارث متین مظہری، ڈاکٹرآبروامان اندرابی، ڈاکٹرسمیہ احمد، ڈاکٹرنجم السحرسمیت متعدد اساتذہ، علماء، ریسرچ اسکالرزاورطلباء نے شرکت کرکے سیمینارکوکامیاب بنایا۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

مینز ون ڈے ورلڈ کپ 2027: ایک ہی گروپ میں بھارت اور پاکستان، 10 اکتوبر کو ہوگا بڑا مقابلہ

ٹورنامنٹ کا آغاز 2 اکتوبر کو سپر سیریز سے ہوگا، جس میں کوالیفائر کی تین…

9 hours ago

Adani Foundation Story: مشرقی اترپردیش میں سماجی تبدیلی کی نئی عبارت لکھ رہا ہے اڈانی فاؤنڈیشن

ملک بھر میں اڈانی فاؤنڈیشن 19 سے زائد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں…

12 hours ago