قومی

Women Empowerment: ناری شکتی سے نو بھارت تک، وزیر اعظم مودی کا وعدہ- خواتین کو بااختیار بنائے بغیر بھارت کی ترقی کا خواب ادھورا

نئی دہلی: ہندوستان کی ترقی کی کہانی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اس میں خواتین کے کردار کو مکمل اہمیت نہ دی جائے۔ یہی پیغام ”ناری شکتی سے نو بھارت تک“ کے تصور میں پوشیدہ ہے، جسے نہ صرف ایک نعرہ بلکہ ایک جامع، منصفانہ اور ترقی پسند ملک کی تعمیر کا عزم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں معروف سماجی کارکن ڈاکٹر شالینی علی نے خواتین کی شمولیت کو قومی ترقی کی بنیاد قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر شالینی علی کے مطابق قدیم ہندوستان میں خواتین کو نمایاں مقام حاصل تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ سماجی برائیوں اور عدم مساوات کے باعث ان کی حیثیت کمزور ہو گئی۔ تاہم جدید ہندوستان میں تعلیم، بیداری اور حکومتی پالیسیوں کے ذریعے خواتین کو دوبارہ بااختیار بنانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ آج خواتین سائنس، کھیل، سیاست، انتظامیہ اور کاروبار سمیت ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں، جو ناری شکتی کے ابھار کی واضح علامت ہے۔

حال ہی میں منظور کیے گئے ”ناری شکتی وندن ادھینیم“ کو ڈاکٹر شالینی علی نے جمہوریت کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا۔ اس قانون کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد نشستیں مخصوص کی جائیں گی۔ ان کے مطابق یہ قدم خواتین کو سیاسی میدان میں زیادہ مواقع فراہم کرے گا اور انہیں پالیسی سازی میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع دے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت سے نہ صرف صنفی مساوات کو فروغ ملے گا بلکہ معاشرے کے اہم مسائل جیسے خواتین کی سلامتی، صحت اور تعلیم کو بھی ترجیح دی جائے گی۔ اس کے علاوہ یہ اقدام خواتین میں خود اعتمادی اور قیادت کی صلاحیتوں کو بھی بڑھائے گا، جس سے نئی نسل کو حوصلہ ملے گا۔

تاہم انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ اس قانون کے نفاذ میں کچھ چیلنجز موجود ہیں۔ نشستوں کا تعین مردم شماری اور حلقہ بندی کے بعد ہوگا، جس کی وجہ سے اس کے مکمل اثرات ظاہر ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ منتخب ہونے والی خواتین محض نمائشی کردار ادا نہ کریں بلکہ حقیقی معنوں میں قیادت فراہم کریں۔ ڈاکٹر شالینی علی نے خواتین کی تعلیم اور معاشی خودمختاری پر خصوصی زور دیا۔ ان کے مطابق جب خواتین تعلیم یافتہ اور مالی طور پر خود کفیل ہوں گی تو وہ اپنے حقوق کے لیے بہتر انداز میں آواز اٹھا سکیں گی۔ حکومت کی مختلف اسکیمیں جیسے ”بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ“ اس سمت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

ڈیجیٹل دور میں خواتین کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے ذریعے خواتین نہ صرف تعلیم حاصل کر رہی ہیں بلکہ آن لائن کاروبار بھی چلا رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سماجی سوچ میں تبدیلی بھی بے حد ضروری ہے، کیونکہ جب تک خواتین کو برابری کی نظر سے نہیں دیکھا جائے گا، تب تک حقیقی بااختیاری ممکن نہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ”ناری شکتی سے نو بھارت تک“ کا سفر ایک مسلسل عمل ہے۔ جب خواتین کو مساوی مواقع، تحفظ اور تعلیم فراہم کی جائے گی تو ہی ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ بھارت کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Dr. Khalid Raza Khan

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

9 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

10 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

10 hours ago