مہاراشٹر کانگریس کے سینئر رہنما نانا پٹولے نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو ایک خط لکھ کر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک اور پروٹوکول کی خلاف ورزی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے خط میں نانا پٹولے نے لکھا: “یہ خط لکھتے ہوئے مجھے شدید دکھ ہو رہا ہے۔ بھوشن گوائی، جو بہوجن سماج کے وقار کی علامت ہیں اور اس وقت ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سربراہ ہیں، ان کے ساتھ مہاراشٹر حکومت اور ریاستی سطح کے اعلیٰ افسران نے جو سلوک کیا ہے، وہ نہایت افسوسناک ہے۔ ایک مہاراشٹر کے فرزند کے طور پر ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی تھی، جس میں ریاست کے چیف سکریٹری، ڈی جی پی اور ممبئی پولیس کمشنر کی موجودگی متوقع تھی لیکن بدقسمتی سے ان میں سے کوئی شریک نہ ہوا۔‘‘
پٹولے نے کہا کہ چیف جسٹس گوئی نے اپنی تقریر میں خود اس بات کی نشاندہی کی کہ اگر ان افسران کو اس پروگرام میں آنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی، تو یہ سوچنے کی بات ہے۔ نانا پٹولے کے مطابق یہ بیان ریاستی حکومت کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ اپنے ہی سپوت کی عزت نہ کر سکی۔
خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ جسٹس بھوشن گوئی ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے نظریات کے پیروکار ہیں اور اسی وجہ سے ان کے ساتھ ایسا برتاؤ دانستہ کیا گیا، ایسا شبہ پورے مہاراشٹر میں ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پٹولے نے کہا کہ آئینی عہدوں پر فائز افراد کے لیے ایک طے شدہ پروٹوکول ہوتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مہاراشٹر حکومت نے اس پروٹوکول کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔
خط کے آخر میں نانا پٹولے نے صدر جمہوریہ سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور ریاستی حکومت و متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ مستقبل میں کوئی بھی حکومت یا افسر آئینی عہدے پر فائز کسی شخصیت کی توہین کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف چیف جسٹس گوئی کی توہین نہیں بلکہ مہاتما جیوتی با پھولے، چھترپتی شاہو جی مہاراج اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر جیسے عظیم رہنماؤں کی بھی توہین ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مرکزی وزیر مملکت رام داس اٹھاولے نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد پر…
یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب منی پور میں مختلف برادریوں سے تعلق…
انوج ٹھاکر نے 27 اکتوبر 2026 کو آخری سانس لی۔ قریبی دوست روپیش سونار کے…
یادداشت پر دستخط کرنے والے اراکین اسمبلی نے عوامی توقعات اور حکومت کے درمیان بڑھتی…
بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ون ڈے 4 نومبر کو آکلینڈ کے ایڈن…
جسٹس ایم ایم سندریش اورجسٹس پرسنّا بی ورالے کی بنچ نے 29 اکتوبر کے اپنے…