اتر پردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے خلاف سیاسی محاذ کھول دیا ہے۔ سماج وادی پارٹی اور انڈیا اتحاد کو نشانہ بناتے ہوئے اویسی نے کہا کہ اتر پردیش یا پورے ملک کا مسلمان کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اتر پردیش میں تیسری مرتبہ بی جے پی کی حکومت بننے سے روکنا ہے تو اویسی اتحاد کے لیے تیار ہیں، لیکن اسے ان کی کمزوری سمجھنے کی کوشش نہ کی جائے۔
19 کروڑ مسلمان تمہاری بپوتی نہیں ہیں
اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے اویسی نے کہا، سماج وادی پارٹی کے لوگوں اور تمہارے ساتھ شامل انڈیا اتحاد کی جماعتوں، یاد رکھو کہ ملک یا اتر پردیش کے 19 کروڑ مسلمان تمہاری بپوتی نہیں ہیں۔ یہ بات یاد رکھو۔ ہم انسان ہیں، صرف ووٹر نہیں ہیں۔ اگر تم ہمیں اپنی بپوتی سمجھتے ہو تو آنے والے اسمبلی انتخابات میں تمہیں اس کا جواب مل جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن نے مسلمانوں کے خوابوں کو چکنا چور کرکے اپنا محل بنایا ہے۔ اویسی نے الزام لگایا کہ جب مدارس کو بند کیا جا رہا تھا تو اپوزیشن نے آنکھیں بند کر لیں اور اپنی زبانیں خاموش کر لیں۔
اویسی کی سماج وادی پارٹی کو وارننگ
اویسی نے کہا، ’’میرے بزرگوں، میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں۔ بی جے پی کو یقینی طور پر روکنا ہے۔ یہاں تیسری بار بی جے پی کی حکومت نہیں بننی چاہیے۔ اگر وہ سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں تو اویسی اور مجلس تیار ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اس دعوت یا تجویز کو کمزوری سمجھتا ہے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ یہ کمزوری کی علامت نہیں بلکہ طاقت اور بڑائی کی نشانی ہے کہ وہ ان کی جانب ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ اویسی نے سماج وادی پارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس ہاتھ کو ٹھکرا دیا گیا تو یہ ہاتھ بہت طاقتور ہے اور ان کی ’گردن کی نسیں‘ بھی توڑ سکتا ہے۔
آؤ، مل کر انتخابات لڑیں
اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے کہا کہ وہ بھی نہیں چاہتے کہ ہندوتوا کی نظریے پر یقین رکھنے والی بی جے پی تیسری مرتبہ حکومت میں آئے۔ انہوں نے کہا، آؤ، مل کر انتخابات لڑیں۔اویسی نے کہا کہ اگر ان کی تجویز قبول نہیں کی جاتی تو کوئی بات نہیں، اے آئی ایم آئی ایم اپنے دم پر انتخابات لڑے گی۔ انہوں نے بہار انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی انہوں نے اتحاد کی پیشکش کی تھی، لیکن اسے قبول نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق اے آئی ایم آئی ایم نے بہار میں 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ بعد میں ان کے 4 ارکان اسمبلی کو توڑ دیا گیا۔ اویسی نے سیمانچل کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارٹی کا ساتھ دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی،…
مقامی لوگوں نے کہا کہ افسران اور ملازمین مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ جب بھی…
سال 1564 میں جب آصف خان کی قیادت میں ایک بڑی مغل فوج نے گونڈوانا…
اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…
دوسری جانب ون ڈے سیریز میں بھارت کو سخت ٹکر دینے کے بعد ویسٹ انڈیز…
روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…