قومی

Abbas Ansari gets interim Bail in Gangster Case: مختار انصاری کے بیٹے عباس انصاری کو سپریم کورٹ سے ملی راحت، گینگسٹر معاملے میں ملی عبوری ضمانت

نئی دہلی: سپریم کورٹ سے مختار انصاری کے بیٹے اور اترپردیش کے رکن اسمبلی عباس انصاری کو بڑی راحت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے عباس انصاری کو اترپردیش گینگسٹراینڈ اینٹی سوشل ایکٹیویٹیز(روک تھام) ایکٹ 1986 کے تحت درج معاملے میں عبوری ضمانت دینے کا فیصلہ سنایا ہے۔ واضح رہے کہ اس معاملے میں عباس انصاری ستمبر 2024 سے جیل میں بند ہیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ عباس انصاری کو ہم شرائط کے ساتھ ضمانت فراہم کرتے ہیں۔ وہ لکھنؤ میں اپنے سرکاری رہائش گاہ پر رہیں اور اپنے اسمبلی حلقہ مئو جائیں۔ چترکوٹ کا سیشن کورٹ بیل بانڈ کی رقم طے کرے گا۔ وہ زیرالتوا معاملوں پرکوئی بیان نہیں دیں گے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ 6 ہفتے میں پولیس عباس انصاری کے کردار سے متعلق اسٹیٹس رپورٹ دے گی۔ اس کے بعد ہم سماعت کریں گے۔

جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بینچ نے کہا کہ عباس انصاری کئی معاملوں کا سامنا کررہے ہیں، لیکن انہیں موجودہ معاملے کو چھوڑ کر سبھی معاملوں میں ضمانت دی گئی ہے۔

ایڈیشنل سالسٹر جنرل نے ضمانت کی مخالفت کی

عباس انصاری کی طرف سے سینئروکیل کپل سبل نے ترک دیا کہ یہ الزام پہلے درج ایف آئی آرکے الزامات سے ملتے جلتے ہیں، جنہیں صوابدید کے استعمال کی کمی کی وجہ سے رد کردیا گیا تھا اورپولیس نے پہلے ہی تمام شواہد اکٹھے کرلئے ہیں۔ وہیں اترپردیش ریاست کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل سالسٹرجنرل کے ایم نٹراجن نے عباس انصاری کی مجرمانہ تاریخ اوراثرکا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت عرضی کی مخالفت کی اورترک دیا کہ وہ گواہوں کو دھمکا سکتے ہیں۔ حالانکہ بینچ نے نوٹ کیا کہ جن گواہوں سے ابھی تک پوچھ گچھ نہیں کی گئی ہے وہ پولیس افسرہیں، نجی گواہ نہیں ہیں اور سوال کیا کہ استغاثہ فریق عباس انصاری کوکتنے وقت تک جیل میں رکھنا چاہتا ہے۔

عدالت نے مندرجہ بالا شرائط کے ساتھ دیا ضمانت کا حکم

عباس انصاری کولکھنؤ میں اپنے سرکاری رہائش گاہ پررہنا ہوگا۔ وہ ضلع پولیس انتظامیہ اورضلع جج کی سابقہ اجازت سے ہی اپنے انتخابی حلقہ کا دورہ کرسکتے ہیں۔ وہ خصوصی ٹرائیل کورٹ کی منظوری کے بغیراترپردیش نہیں چھوڑسکتے۔ عباس انصاری زیرالتوا معاملوں پر عوامی طورپربیان نہیں دیں گے۔ عباس انصاری کوچترکوٹ کے سیشن عدالت کے اطمینان کے لئے ضمانتی مچلکے جمع کروانے ہوں گے۔ انہیں اس یا کسی دیگرمعاملے میں ٹرائل کورٹ میں پیش ہونا ہوگا اورافسران کوایک دن پہلے مطلع کرنا ہوگا۔ عدالت نے پولیس افسران کو6 ہفتے میں ہفتے میں عباس انصاری کے اخلاق پرایک اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا، جس کے بعد معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

PK Party Announces Bihar MLC: پی کے کا بڑا قدم، نیرج کمار کے خلاف جن سوراج نے اتارا امیدوار، اننت سنگھ کی بھی حمایت

بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…

5 minutes ago

Mahua Moitra Files Complaint Against CEC: مہوا موئترا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف درج کرائی پولیس شکایت

ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…

2 hours ago

TMC Symbol Freez Case: ٹی ایم سی نام اور انتخابی نشان تنازع: سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پوچھا، کتنے وقت میں ہوگا فیصلہ؟

ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت، عدالت نے الیکشن کمیشن سے دونوں فریقوں کے مفاد…

2 hours ago

Greater Noida Bus Fire: گریٹر نوئیڈا بس حادثہ: امت شاہ سمیت کئی لیڈروں نے کیا اظہارِ افسوس

یمنا ایکسپریس وے پر سلیپر بس میں آگ لگنے سے 9 مسافروں کی موت، متعدد…

3 hours ago