قومی

MP Missing Women Data: ملک کے ‘ہارٹ لینڈ’ میں خواتین محفوظ نہیں؟ مدھیہ پردیش حکومت کے اعداد و شمار حیران کن، اب تک 50 ہزار خواتین لاپتہ

ملک کے ہارٹ لینڈ سے ایک حیران کن اعداد و شمار سامنے آیا ہے۔ 20 فروری کو مدھیہ پردیش اسمبلی میں کانگریس کے رکن اسمبلی وکرانت کے سوال پر جواب دیتے ہوئے حکومت نے حیران کن اعداد و شمار جاری کیے۔ وکرت بھوریا نے سال 2020 سے اب تک، یعنی تقریباً گزشتہ 6 سال میں، صوبے میں لاپتہ اور گمشدہ خواتین اور لڑکیوں کی معلومات حکومت سے طلب کی تھیں۔حکومت سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق، مدھیہ پردیش میں گزشتہ چھ سالوں میں 2.70 لاکھ سے زائد خواتین اور لڑکیاں لاپتہ یا گمشدہ درج کی گئی ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر خواتین کو پولیس نے تلاش کر لیا ہے، لیکن اب بھی 50 ہزار سے زیادہ خواتین اور لڑکیوں کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

کل لاپتہ لڑکیوں کے اعداد و شمار

سال 2020 سے 28 جنوری 2026 تک کے دستیاب اعداد و شمار خواتین اور لڑکیوں کی گمشدگی کی سنگین تصویر پیش کرتے ہیں۔ حکومت کے مطابق اس مدت میں کل 2,06,507 خواتین لاپتہ درج کی گئیں، جن میں سے 1,58,523 کو تلاش کر لیا گیا، جبکہ 47,984 خواتین کا اب تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ اسی طرح 63,793 لڑکیاں لاپتہ ہوئیں، جن میں سے 61,607 کو تلاش کیا گیا، جبکہ 2,186 لڑکیاں اب بھی لاپتہ ہیں۔ یوں مجموعی طور پر 50,170 خواتین اور لڑکیاں ایسی ہیں جن کا اب تک کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ یہ اعداد و شمار قانون و انتظام اور حفاظتی نظام کے سامنے ایک بڑی چیلنج کی عکاسی کرتے ہیں۔

خواتین کی گمشدگی پرکانگریس نے بی جے پی حکومت کو گھیرا

کانگریس نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے صوبے میں خواتین کو غیر محفوظ قرار دیا ہے۔ سوال کرنے والے کانگریس رکن اسمبلی وکرت بھوریا اس میں منظم گروہوں کی شمولیت کو مانتے ہیں۔ بھوریا کے مطابق ان منظم گروہوں کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔ بھوریا نے اس معاملے کو انسانی اسمگلنگ سے بھی جوڑتے ہوئے اسے بین الصوبائی مسئلہ بتایا اور حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کانگریس رکن اسمبلی کے مطابق، لاپتہ خواتین اور لڑکیوں کی اکثریت شہری علاقوں سے ہے، جس میں اندور پہلے نمبر پر ہے۔ ضلع وار اعداد و شمار بھی جاری کیے گئے ہیں۔

سال بہ سال گمشدگی کے معاملات میں اضافہ

سال بہ سال گمشدگی کے معاملات میں اضافہ بھی تشویش ناک ہے۔ 2020 سے 2025 کے درمیان ہر سال گمشدگی کے کیسز میں اضافہ درج کیا گیا۔ سال 2024 میں 50,798 کیسز سامنے آئے، سال 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 54,897 ہو گئی، جبکہ سال 2026 میں 28 جنوری تک 4,197 کیسز درج کیے جا چکے ہیں، جو آنے والے وقت میں اعداد و شمار کے مزید بڑھنے کا اشارہ دیتے ہیں۔ یہ مسلسل بڑھتے ہوئے اعداد و شمار خواتین اور لڑکیوں کی حفاظت کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

PM Kisan Yojana: وزیر اعظم کسان یوجنا کی 24ویں قسط سے متعلق بڑی اپ ڈیٹ! اکتوبر کے 16 دن گزر گئے، جانیے کب مل سکتا ہے یہ تحفہ

وزیر اعظم کسان سمان ندھی یوجنا کے تحت کروڑوں کسانوں کو 24ویں قسط کا انتظار…

25 minutes ago

Amit Shah Congratulates ABVP: اڈیشہ کے طلبہ یونین انتخابات میں اے بی وی پی کا دبدبہ، امت شاہ نے دی مبارک باد، 13 یونیورسٹیوں میں کامیابی

اڈیشہ کے طلبہ یونین انتخابات میں اے بی وی پی نے کئی یونیورسٹیوں میں اپنی…

28 minutes ago

World Cup 2027: ورلڈ کپ 2027 کے لیے بمراہ کی یہ کیسی تیاری؟ 2023 کے بعد اب تک کھیلے ہیں صرف 2 ون ڈے میچ

حال ہی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلی گئی گھریلو ون ڈے سیریز میں بھی…

32 minutes ago

Supreme Court: بچوں کو انٹرنیٹ سے محروم کرنا درست نہیں، یہ بھی ان کا بنیادی حق ہے- سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر پابندی لگائی گئی تو…

1 hour ago