مدھیہ پردیش کے ستنا ضلع سے ایک ایسی انوکھی محبت کی کہانی سامنے آئی ہے جس نے لوگوں کو حیرت میں بھی ڈال دیا ہے اور سماجی سطح پر بحث کا موضوع بھی بنا دیا ہے۔ ستنا سینٹرل جیل میں تعینات ایک مسلم خاتون اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ نے ایک سابق قیدی سے ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کرلی۔ اس شادی کی خاص بات یہ رہی کہ دونوں مختلف سماجی اور مذہبی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن تمام مخالفتوں کے باوجود انہوں نے ایک ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق فیروزہ خاتون ستنا سینٹرل جیل میں اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ اسی دوران ان کی ملاقات دھرمیندر سنگھ نامی ایک شخص سے ہوئی، جو قتل کے ایک مقدمے میں سزا کاٹ چکا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ دھرمیندر جیل میں وارنٹ اور دیگر انتظامی کاموں میں تعاون کیا کرتا تھا۔ اسی دوران دونوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا، جو وقت کے ساتھ دوستی اور پھر محبت میں تبدیل ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق فیروزہ خاتون اور دھرمیندر سنگھ نے ایک دوسرے کو قریب سے سمجھنے کے بعد شادی کا فیصلہ کیا، تاہم دونوں کے اہل خانہ اس رشتے سے متفق نہیں تھے۔ خاص طور پر خاتون افسر کے خاندان نے اس شادی کی مخالفت کی، جس کے باعث ان کے گھر والے تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود دونوں نے اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہوئے شادی کی تمام رسومات روایتی انداز میں ادا کیں۔
یہ شادی مدھیہ پردیش کے چھترپور ضلع کے لوکشن نگر علاقے میں انجام پائی، جہاں ہندو رسم و رواج اور ویدک منتروں کے درمیان شادی کی تقریب منعقد ہوئی۔ شادی کے دوران دلہا اور دلہن نے تمام مذہبی رسومات ادا کیں اور ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے کا عہد کیا۔ تقریب میں مقامی سماجی کارکنان اور چند قریبی افراد بھی موجود تھے، جنہوں نے اس شادی کو کامیاب بنانے میں مدد کی۔ اس شادی کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ کنیا دان کی رسم سماجی کارکنوں کی موجودگی میں ادا کی گئی، کیونکہ دلہن کے اہل خانہ تقریب میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ تقریب کے دوران ماحول مکمل طور پر روایتی اور پُرسکون رہا اور دونوں خاندانوں کی غیر موجودگی کے باوجود شادی کی تمام رسومات خوش اسلوبی سے مکمل کی گئیں۔
جیسے ہی اس شادی کی خبر سامنے آئی، ستنا سینٹرل جیل اور مقامی حلقوں میں اس معاملے پر بحث شروع ہو گئی۔ کچھ لوگ اس فیصلے کو ذاتی آزادی، محبت اور حوصلے کی مثال قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض افراد اس رشتے پر مختلف آرا کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ تاہم فیروزہ خاتون اور دھرمیندر سنگھ نے سماجی ردعمل کی پروا کیے بغیر اپنے رشتے کو باضابطہ نام دینے کا فیصلہ کیا۔ سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ انسانی رشتے بعض اوقات سماجی بندشوں اور روایتی سوچ سے آگے نکل جاتے ہیں۔ دوسری جانب کئی لوگ اسے ایک غیر معمولی فیصلہ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ ایک جیل افسر اور سابق قیدی کے درمیان اس نوعیت کا رشتہ کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کے باوجود دونوں نے اعتماد اور باہمی سمجھ بوجھ کے ساتھ اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا ہے، جس کی اب ہر طرف چرچا ہو رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…